یہ بھی یادرکھو کہ سب سے اول اور ضروری دعا یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف کر نے کی دعا کر ے ساری دعاؤں کا اصل اور جزویہی دعا ہے کیو نکہ جب یہ دعا قبول ہو جاوے اور انسان ہر قسم کی گندگیوں اور آلودگیوں سے پاک صاف ہو کر خدا تعالیٰ کی نظر میں مطہر ہو جاوے تو پھر دوسری جو اس کی حاجات ضرور یہ کے متعلق ہو تی ہیں وہ اس کو مانگنی بھی نہیں پڑتیں وہ خود بخود قبول ہوع تی چلی جاتی ہیں بڑی مشقت اور محنت طلب یہی دعا ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں متقی اور راستباز ٹھہرا یا جاوے یعنی اول اول جو حجاب انسان کے دل پر ہو تے ہیں ان کا دور ہو نا ضروری ہے جب وہ دور ہو گئے تو دوسرے حجابوں کے دور کر نے کے واسطے اس قدرمحنت اور مشقت کر نی نہیں پڑے گی کیو نکہ خدفا تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال ہو کر ہزاروں خرابیاں خود بخود دور ہو نے لگتی ہیں اور جب اندر پا کیز گی اور طہارت پیدا ہو تی ہے اور اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا ہو جا تا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ خود بخود اس کا متکفل اور متو لی ہو تا ہے اور اس سے پہلے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی حاجت کو ما نگے اللہ تعالیٰ خود اس کو پورا کر دیتا ہے یہ ایک باریک سر ہے جواس وقت کھلتا ہے جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے اس سے پہلے اسکی سمجھ میں آنا بھی مشکل ہو تا ہے لیکن یہ ایک عظیم الشان مجاہدہ کا کام ہے کیو نکہ دعا بھی ایک مجاہدہ کو چاہتی ہے جو شخص دعا سے لا پرواہی کرتا ہے اور اس سے دور رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا اور اس سے دور ہو جاتا ہے جلد ی اور شتا ب کاری یہاں کام نہیں دیتی خدا تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے جو چاہے عطا کر ے اور جب چاہے عنایت فر ما ئے سائل کا کام نہیں ہے کہ وہ کافی الفور عطا نہ کئے جانے پر شکایت کرے اور بد ظنی کرے بلکہ استقلا لاور صبر سے ما نگتا چلا جاوے دنیا بھی دیکھو کہ جو فقیر اڑ کر ما نگتے ہیں خواہ اس کو کتنی سی جھڑ کیاں اور جتنا چا ہو گھُر کو مگر وہ ما نگتے چلے جاتے ہیں اور اپنے مقام سے نہیں ہٹتے یہانتک کہ کچھ نہ کچھ لے ہی مرتے ہیں اور بخیل سے بخیل آدمی بھی ان کو کچھ نہ کچھ دینے پر مجبور ہو جا تا ہے اسی طرح پر انسان جب اللہ تعالیٰ کے حضور گٹگڑاتا ہے اور بار بار ما نگتا ہے تو اللہ تعالیٰ کریم رحیم ہے وہ کیو ں نی دے ؟دیتا ہے اور ضرور دیتا ہے مگر ما نگنے والا بھی ہو ۔
انسان اپنی شتاب کاری اور جلد بازی کی وجہ سے محروم ہو جا تا ہے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بالکل سچا ہے
ادعونی استجب لکم
تم اس ما نگو اور پھر ما نگو اور پھر ما نگو جو ما نگتے ہیں ان کو دیا جا تا ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ دعا ہو نری بک بک نہ ہو اور زبان کی لاف زنی اور چرب زبانی نہ ہو ایسے لوگ جنہوں نے دعا کے لیے استقامت اور استقلا ل سے کام نہیں لیا اور آداب دعا کو ملخوظ نہیں رکھا جب ان کچھ ہاتھ نہ آیا تو آخر وہ دعا ا ور اس کے اثر سے منکر ہو گئے اور پھر رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ سے بھی منکر ہو بیٹھے کہ اگر خدا ہو تا تو ہماری دعا کو کیوں نہ سنتا ان احمقوںکو اتنا معلوم نہیں کہ خدا تو ہے مگر تمہاری دعائیں بھی دعائیں ہو تیں پنجابی زبان میں