بن جا تا ہے تو اور وہ اللہ تعالیٰ پر پورا ایمان لا تا ہے اور اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کے ما تحت کر لیتا ہے وہ یقیناً یقیناً ان وعدوں کو پورا پا تا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص اور مو من بندوں سے کئے ہیں وہ اپنی جان پر ان وعدوں کو پوراہوتا ہوا پا تا ہے اصل یہ ہے کہ سچا مسلمان بننا ہی تو مشکل ہے سچا مسلمان بننا اور اونٹ کا سوئی کے نا کے سے نکلنا ایک ہی بات ہے جب تک یہ نفس اونٹ کی طرح مو ٹا ہے یہ اس میں سے نکل نہیں سکتا ،لیکن جب دعا اور تصرع کے ساتھ نفس کو مار لیتا ہے اور وہ جسم جو عارضی طور پر چٹھا ہوا ہو تا ہے دور ہوجا تا ہے تو یہ لطیف ہو کر اس میں سے نکل ِجا تا ہے اس کے لیے ضرورت ہے دعاکی پس ہر وقت دعا کرتا رہے کیو نکہ دعا تو ایک ایسی چیز ہے جو ہر مشکل کو آسان کر دیتی ہے دعا کے ساتھ مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہو جاتا ہے لوگوں کو دعا کی قدر وقیمت معلوم نہیں وہ بہت جلد ملول ہو جاتے ہیں اور ہمت ہار کر چھوٹ بیٹھتے ہیں حالا نہ دعا ایک استقلال اور مداومت کو چاہتی ہے جب انسان پوری ہمت سے لگا رہتا ہے تو پھر ایک بدخلقی کیا ہزاروں بد خلقیوں کو اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے اور اسے کامل مو من بنا دیتا ہے لیکن اس کے واسطے اخلاص اور مجاہدہشرط ہے جو دعا ہی سے پیدا ہو تا ہے ۔ یادرکھو نری بیعت سے کچھ نہیں ہو تا اللہ تعالیٰ اس رسم سے راضی نہیں ہو تا جب تک کہ حقیقی بیعت کے مفہوم کو ادا نہ کرے اس وقت تک یہ بیعت بیعت نہیں نری رسم ہے اس لیے ضروری ہے کہ بیعت کے حقیقی منشا ء کو پورا کر نے کی کو شش کرو۔ یعنی تقویٰ اختیار کرو قرآنِ شریف کو خوب غور سے پڑھو اور اس پر تدبر کرو اور پھر عمل کرو کیو نکر سنت اللہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نرے اقوال اور باتوں سے کبھی خوش نہیں ہو تا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کر نے کے واسطے ضروری ہے کہ اس کے احکام کی پیروی کی جا وے اور اس کے نواہی سے بچتے رہو اور یہ ایک ایسی صاف بات ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بھی نری باتوں سے خوش نہیں ہو تا بلکہ وہ بھی خدمت ہی سے خوش ہو تا ہے سچے مسلمان اور جھوٹے مسلمان میں یہی فر ق ہو تا ہے کہ جھوٹا مسلمان باتیں بنا تا ہے کرتا کچھ نہیں اور اس کے مقابلہ میں حقیقی مسلمان عمل کر کے دکھا تا ہے با تیں نہیں بنا تا پس جب اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ میرا بند ہ میرے لیے عبادت کر رہا ہے۔ اور میرے لیے میری مخلوق پر شفقت کر رہا ہے ۔تو اس وقت اپنے فر شتے اس پر نازل کرتا ہے اور سچے اور جھوٹے مسلمان میں جیسا کہ اس کا وعدہ ہے فر قان رکھد یتا ہے ۔ گناہ دور کر نے کا طریق اصل غرض انسان کی پیدا ئش کی یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرے اور ان باتوں سے جو گناہ کہلا تے ہیں بچتا رہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ گناہوں اور بدیوں سے بچے لیکن ان کے دور کر نے کا کیا طریق ہے؟ یادرکھو کہ ہر گنا ہ اور بدی نری اپنی کو شش سے دور نہیں ہو سکتے جب تک اللہ تعا لیٰ کا فضل اس کے شام حال نہ ہو پس اسکے واسطے