ہو جا تا ہے ایک خونی خون کر نا چھوڑ سکتا ہے چور چوری کر نا چھوڑ سکتا ہے لیکن ایک بد اخلاق کوغصہ چگوڑنا مشکل ہو جاتا ہے یا تکبر والے کو تکبر چھوڑنا مشکل ہو جا تا ہے کیو نکہ اس میں دوسروں کو جو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے پھر خود اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے لیکن یہ سچ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی عظمت کے لیے اپنے آپ کو چھوٹا بنا وے گا خدا تعالیٰ اس کو خود بڑا بنا وے گا یہ یقیناً یادرکھو کہ کو ئی بڑانہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ آپ کو چھوٹا نہ بنا ئے یہ ایک ذریعہ ہے جس سے انسان کے دل پر ایک نور نازل ہو تا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف کھینچا جا تا ہے جس قدر اولیا ء اللہ دنیا میں گذرے ہیں اور آج لا کھوں انسان جن کی قدر منزلت کرتے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو ایک چیونٹی سے بھی کمتر سمجھا جس پر خدا تعالیٰ کا فضل ان کے شامل حال ہوا اور ان کو وہ مدارج عطا کئے جس کے وہ مستحق تھے تکبر،بخل ،غرور وغیرہ بداخلا قیاں بھی اپنے اندر شرک کا ایک حصہ رکھتی ہیں اس لیے ان بداخلا قیوں کا مر تکب خدا تعالیٰ کے فضلوں سے حصہ نہیں لیتا بلکہ وہ محروم ہو جا تا ہے بر خلاف اس کے غربت وانکسار کر نے والا خدا تعالیٰ کے رحم کا مورد بنتا ہے ۔
تکبر کی قسمیں
تکبر کئی قسم کا ہو تا ہے کبھی یہ آنکھ سے نکلتا ہے جبکہ دوسرے کو گھور کر دیکھتا ہے تو اس کے یہی معنے ہو تے ہیں کہ دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے کبھی زبان کے کئی چشمے ہیں اور مومن کو چاہیئے کہ ان تمام چشموں سے بچتا رہے اور اس کا کو ئی عضو ایسا نہ ہو جس سے تکبر کی بو آوے اور وہ تکبر ظاہر کر نے والا ہو ۱؎
صوفی کہتے ہیں کہ انسان کے اندر اخلاق رذیلہ کے بہت سے جن ہیں اور جب یہ نکلتے لگتے ہیں تو نکلتے رہتے ہیں مگر سب سے آخری جن تکبر کا ہو تا ہے جو اس میں رہتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل اور انسان کے سچے مجاہدہ اور دعااؤں سے نکلتا ہے ۔
بہت سے آدمی اپنے آپ کو خاکسار سمجھتے ہیں لیکن ان میں بھی کسی نہ کسی نوع کا تکبر ہو تا ہے اس لیے تکبر کی باریک در باریک قسموں سے بچنا چاہیئے بعض وقت یہ تکبر دولت سے پیداہو تا ہے دولتمند متکبر دوسروں کو کنگال سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کون ہے جو میرا مقابلہ کر ے بعض اوقات اور ذات کا تکبر