نہیں دیتی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ تم اپنے آپ کو مفید ثابت کرو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے بندوں کو نفع پہنچاؤ۔ اعمالِ صا لحہ کی ضرورت انسان سمجھتا ہے کہ برازبان سے کلمہ پڑھ لینا ہی کا فی ہے یا نرا استغفر اللہ کہہ دینا ہی کافی ہے مگر یادرکھو زبانی لا ف وگزاف کا فی نہیں ہے۔ خواہ انسان زبان سے ہزار مر تبہ استغفر اللہ کہے یا سو مرتبہ تسبیح پڑھے اس کا کو ئی فائدہ نہیں ہو گا کیو نکہ خدا نے انسان کو انسان بنا یا ہے طوطا نہیں بنا یا یہ طوطے کا کام ہے کہ وہ زبان سے تکرار کرتا رہے اور سمجھے خاک بھی نہیں انسان کا کام تو بہ ہے کہ جو منہ سے کہتا ہے اس کو سوچ کر کہے اور پھر اس کے موافق عملدرآمد بھی کرے لیکن اگر طوطے کی طرح بولتا جاتا ہے تو یادرکھو نری زبان سے کو ئی برکت نہیں ہے جب تک دل سے اس کے ساتھ نہ ہو اور اس کے موافق اعمال نہ ہوں وہ نریباتیں سمجھی جائیں گی جن میں کو ئی خوبی اور برکت نہیں کیو نکہ وہ انرا قول ہے جو قرآن ِشریف اور استغفار ہی کیو ں نہ پڑھتا ہو خدا تعالیٰ اعمال چاہتا ہے اس لیے بار بار یہی حکم دیا کہ اعمال ِصالحہ کرو جب تک یہ نہ ہو خدا کے نزدیک نہیں جا سکتے بعض نادان کہتے ہیں کہ آج ہم نے دن بھر میں قرآن ختم کر لیا لیکن کو ئی ان سے پو چھے کہ اس سے کیا فائد ہ ہوا؟ نِری زبان سے تم نے کا م لیا مگر باقی اعضاء کو بالکل چھوڑدیا حالا نکہ اللہ تعالے ٰنے تمام اعضاء اس لیے بنا ئے ہیں کہ ان سے کام لیا جاوے یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ بعض لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور قرآن ان پر لعنت کرتا ہے کیو نکہ ان کی تلاوت نراقول ہی قول ہوتا ہے اور اس پر عمل نہیں ہو تا ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کے موافق اپنا چال چلن نہیں بنا تا ہے وہ ہنسی کرتا ہے کیو نکہ پڑھ لینا ہی اللہ تعالیٰ کا منشا نہیں وہ تو عمل چاہتا ہے اگر کو ئی ہرروز تعزیرات ہند کی تلاوت تو کرتا رہے مگر ان قوانین کی پابندی نہ کرے بلکہ جرائم کو کرتا رہے اور رشوت وغیرہ لیتا رہے توایسا شخص جس وقت پکڑا جاوے گا تو کیا اس کا یہ عذقابل سماعت ہو گا کہ مَیں ہر روز تعزیرات کو پڑھا کرتا ہوں؟یا اس کو زیادہ سزا ملے گی کہ تو نے باوجود علم کے پھر جرم کیا ہے اس لیے ایک سال کی بجائے چار سال کی سزا ہو نی چاہیئے۔ غرض نری باتیں کام نہ آئیں گی پس چاہیئے کہ انسان پہلے اپنے آپ کو دکھ پہنچائے تا خدا تعالیٰ کو راضی کرے اگر وہ ایسا کرے گا تواللہ تعالیٰ اس کی عمر بڑھا دے گا اللہ تعالیٰ کے وعدوں میںتخلف نہیں ہوتا اس نے جو وعدہ فر مایا ہے کہ اما ما ینفع الناس فیمکت فی الارض(الرعد:۱۸) یہ بالکل سچ ہے عام طور پر بھی قاعدہ ہے کہ جو چیز نفع رساں ہواس کو کو ئی ضائع نہیں کرتا یہا نتک کہ کو ئی گھوڑا بیل یا گائے بکری اگر مفید ہواور اس سے فائدہ پہنچتا ہو کون ہے جو اس کو ذبح کر ڈالے ،لیکن جب وہ ناکارہ ہو جاتا ہے اور