کہتے ہیں عوام تو عوام بہت سے عالموں فاضلوں کو بھی پتہ نہیں کہ کہ وہ گناہ کررہے ہیں حالا نکہ وہ بعض گناہوں میں مبتلا ہو تے ہیں اور کرتے رہتے ہیں گناہوں کا علم جب تک نہ ہو اور پھر انسان ان سے بچنے کی نہ کرے تو اس زندگی سے کو ئی فائدہ نہ اس کو ہو تا ہے اور نہ دوسروں کو۔خواہ سوبرس کی عمر بھی کیوں نہ ہو جاوے لیکن جب انسان گناہ پر اطلاع پالے اور ان سے بچے تو وہ زندگی مفید زندگی ہو تی ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے جبتک انسان مجاہدہ نہ کرے اور اپنے حالات اور اخلاق کو ٹٹولتا نہ رہے کیو نکہ بہت سے گناہ اخلاقی ہو تے ہیں جیسے غصہ ،غضب،کینہ ،جوش ،رہا۔تکبر،حسد وغیرہ یہ سبب داخلاقیاں ہیں جو انسان کو جہنم تک پہنچا دیتی ہیں انہی میں سے ایک گناہ جس کانامتکبر ہے شیطان نے کیا تھا یہ بھی ایک بدخلقی ہی تھی جیسے لکھا ہے ۔ ادنی واستکبرا (سالبقرۃ:۳۵) اور پھر اس کا نتیجہ کیا ہووہ مردودِخلائق ٹھہرا۔ اور ہمشیہ کے لیے لعنتی ہوا مگر یادرکھو کہ یہ تکبر صرف شیطان ہی میں نہیں ہے بلکہ بہت ہیں جواپنے غریب بھائیوں پر تکبر کرتے ہیں اور اس طرح پر بہت سی نیکوں سے محروم رہ جاتے ہیں اور یہ تکبر کئی طرح پر ہوتا ہے کبھی دولت کے سبب سے کبھی علم کے سبب سے کبھی حسن کے سبب سے اور کبھی نسب کے سبب سے ،غرض مختلف صورتوں سے تکببر کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ وہی محرومی ہے اور اسی طرح پر بہت سے برے خلق ہو تے ہیں جن کا انسان کو علم نہیں ہو تا اس لیے کہ وہ کبھی ان پر غور نہیں کرتا اور نہ فکر کرتا ہے انہیں بداخلاقیوں میں سے ایک غصہ بھی ہے۱؎ جب انسان اس بداخلاقی میں مبتلا ہو تا ہے تو وہ دیکھے کہ ادس کی نوبت کہاں پہنچ جاتی ہے وہ ایک دیوانہ کی طرح ہو تا ہے اس وقت جواس کے منہ میں آتا ہے کہہ گذرتا ہے اور گالی وغیرہ کی کو ئی پروا نہیں کرتا اب دیکھو کہ اسی ایک بداخلاقی کے نتائج کیسے خطرناک ہو جاتے ہیں پھر ایسا ہی ایک حساہے کہ انسان کسی کی حالت یا مال ودولت کو دیکھ کر کڑھتا اور جلتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے پاس نہ رہے اس سے بجز اس کہ وہ اپنی اخلاقی قوتوں کا خون کرتا ہے کو ئی فائدہ نہیں اٹھاسکتا پھر ایک بداخلاقی بخل کی ہے باوجویکہ خدا تعالیٰ نے اسکو مقدرت دی ہے مگر یہ انسانوں پر رحم نہیں کرتا ہمسایہ خواہ ننگا ہو بھوگا ہو مگر اس کو اس پر رحم نہیں آتا مسلمانوں کے حقوق کی پروا نہیں کرتا وہ بجز اس کے کہ دنیا میں مال ودولت جمع کرتا رہے اور کوئی کام دوسروں کی ہمدردی اور آرام کے لیے نہیں رکھتا حالا نکہ اگر وہ چاہتا اور کوشش کرتا تواپنے قویٰ اور دولت سے دوسروں کو فا ئدہ