ہو گا جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی محبت کے دریا میں غرق کر دیا ہے ان لوگوں کے زمرہ میں جو منقطعین ہیں داخل ہو کر یہ وہ انعامات الہیٰ حاصل کرے گا جیسے عادت اللہ ان سے جاری ہے یہ کبھی کسی نے نہین سنا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک راستباز متقی کو رزق کی مارد یبلکہ وہ تو سات پشت تک بھی رحم کرتا ہے قرآن شریف میں خضروموسیٰ کاقصہ درج ہے کہ انہون نے ایک خزانہ نکالا اس کی بات یا کہ
ابو ھما صالحا(الکھف:۸۳)
اس آیت میں ان کے والدین کا ذکر تو ہے لیکن یہ ذکر نہیں کہ وہ لڑکے خود کیسے تھے باپ کے طفیل سے اس خزانہ کو محفوظ رکھا تھا اور اس لیے ان پر رحم کیا گیا لڑکوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ ستاری سے کام لیا ۔
تو ریت اور ساری آسمانی کتابوں میں پا یا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ متقی کو ضائع نہیں کرتا اس لیے پہلے ایسی دعائیں کر نی چاہئیں جن سے نفس امارہ ،نفس مطمئنہ ہو جاوے ۔اور اللہ تعالیٰ راضی ہو جاوے ۔پس
اھدنا الصراط المستیم(الفاتحۃ:۶)
کی دعائیں مانگو کیو نکہ اس کے قبول ہو نے پر جو یہ خود مانگتا ہے خدا تعالیٰ خود دیتا ہے ۔
سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ جب انسان سچی تو بہ کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے ۔یہ دیتا ہے آخر کہتے ہیں کہ بیوی دیتا ہے معلوم ہو تا ہے کہ یہ سب وامقات وہ اپنے بیان کرتے ہیں اور یہ ہے بالکل سچ کہ خدا تعالیٰ خود متعہدہو جاتا ہے اس کے موافق میرا بھی ایک الہام ہے۔
ہر چہ بابدنو عروسے راہماں ساماں کنم
غرض۱؎ جب متولیّ اور متکفل خدا ہو تو پھر کیا ہی مزاآتا ہے ۔
(الحکم جلد۸نمبر۸ صفحہ ۵تا۷مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۴ئ)
استفسارات اور انکے جوابات
سوال اوّل:۔یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئاً للہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔ ہر گز نہیں یہ توحید کے برخلاف ہے ۔
سوال ۲:۔ جبکہ غائب اور حاضر دونو کو خطاب کر لیتے ہیں پھر اس میں کیا حرج ہے ؟
جواب:۔ دیکھو بٹالہ میں لوگ زندہ موجود ہیں اگر ان کو یہاں سے آواز دو تو کیا وہ کوئی جواب دیتا ہے پھر بغداد میںسید عبدالقادر جیلانی کی قبر پر جا کر آواز دوتو کوئی جواب نہیں آئے گا خدا تعالیٰ تو جواب دیتا ہے جیسا کہ