عطا کردہ قویٰ کو بیکار محض خیال کرنے لگ جاتے ہیں)آنحضرت ﷺ جب جنگ کو جاتے تو تیاری کرتے۔گھوڑے،ہتھیار بھی ساتھ لیتے بلکہ آپ بعض اوقات دو دو زرہ پہن کر جاتے۔تلوار بھی کمر سے لٹکاتے حالانکہ ادھر خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا واللہ یعصمک من الناس(المائدہ:۶۸) بلکہ ایک دفعہ صحابہ کرام رجی اللہ عنہم نے تجویز فر مایا کہ اگر شکست ہو تو آپ کو جلد مدینہ پہنچا دیا جا وے اصل بات یہ ہے کہ قوی الا یمان کی نظر استنغاء ِالہیٰ پرہو تی ہے اور اسے خوف ہوتاہے کہ خدا کے وعدوں میں کو ئی ایسی منفی شرط نہ ہو جس کا اسے علم نہ ہو جو لوگ تد ابیرکے سلسلہ کو بالکل بالکل ٹھہراتے ہیں ان میں سے ایک زہر ملامادہ ہو تا ہے ان کا خیال یہ ہو تا ہے کہ اگر بلا آوے تو دیدہ دانستہ اس کے آگے جاپڑیں اور جس قدر پیشہ والے اور اہل حرفت ہیں وہ سب کچھ چھوڑچھاڑ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاویں۔ بعض فقہی مسائل ایک شخص نے چند مسائل دریافت کئے وہ اوران کے جواب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دئیے ان کو ہم ذیل مین درج کرتے ہیں ۔(ایڈیٹرالبدر) سوال:۔ سیت کے قل جو تیسرے دن پڑھے جاتے ہیں ان کاثواب اسے پہنچتا ہے یا نہیں؟ جواب:۔ قل خوانی کی کو ئی اصل شریعت میں نہیں ہے صدقہ ،دعا اور استغفار میت کو پہنچتے ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ ملا نوں کو اس سے ثواب پہنچ جاتا ہے سواگر اسے ہی مردہ تصور کر لیا جاوے (اور واقعی ملاں لوگ روحانیت سے مردہ ہی ہو تے ہیں )تو ہم مان لیں گے) ہمیں تعجب ہے کہ اگر یہ لوگ ایسی باتوں پر امید کیسے باندھ لیتتے ہیں دین تو ہم کو نبی کریم ﷺ سے ملا ہے اس میں ان باتوں کا نام تک نہیں صحابہ کرامؓ بھی فوت ہو ئے کیا کسی کے قل پڑھے گئے صرہاسال کے بعد اور بدعتوں کی طرح یہ بھی ایک بدعت نکل آئی ہو ئی ہے ۔ ایک طریق اسقاط کا رکھا ہے کہ قرآن شریف کو چکر دیتیہیں یہ اصل میں قرآن شریف کی بے ادبی ہے انسان خدا اے سچا تعلق رکھنے والا نہیں ہو سکتا جب تک سب نظر خدا پر نہ ہو ۔ سوال:۔ایک عورت تنگ کرتی ہے کہ سودی روپیہ لے کر زیور بنا دو اس کا خاوند غریب ہے ۔ جواب:۔ وہ عورت بڑی نالائق ہے جو خاوند کو زیور کیلئے تنگ کرتی ہے اور کہتی ہے کہ سودلے کربنادے۔ پیغمبر خدا ﷺ کو ایک دفعہ ایسا واقعہ پیش آیا اور آپ کی ازواج نے آپ سے بعض دنیوی خواہشات کی تلمیل کا اظہار کیا تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ان کو یہ فیقر انی زندگی منظور نہیں ہے تو توُان کو کہدے کہ آاؤ تم کو الگ کہ دوں انہوں نے فقیر انہ زندگی اخیتار کی آخر نیتجہ یہ ہوا کہ وہی بادشاہ ہو گئیں وہ صرف خدا