وارث بنا نا ہو تو اس طرح پر خدا کے غضب کے نیچے آجاتا ہے ۔
سچا مسلم
اولاد تو نیکوکاروں اور ماموروں کی بھی ہو تی ہے ابراہیم علیہ الصلوُۃوالسلام کی اولاد بھی دیکھو کس قدر کثرت سے ہو ئی کہ کو ئی گن نہیں سکتامگر کو ئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کا خیال اور طرف تھا؟ بلکہ ہر حال میں خدا ہی کی طرف رجوع تھا اصل اسلام اسی کا نام ہے جو ابراہیم کو بھی کہا کہ
اسلم ۲؎
جب ایسے رنگ میں جاوے تو وہ شیطان اور جذبات نفس سے الگ ہو جاتا ہے یہانتک کہ وہ خدا کی راہ میں جان تک کے دنے میں بھی دریغ نہ کرے اگر جاںنثاری سے دریغ کرتا ہے تو خوب جان لے کہ وہ سچا مسلم نہیں ہے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ بیداطاعت ہو اور پوری عبودیت کا نمونہ دکھاے یہانتک کہ آخری امانت جان بھی دیدے اگر بخل کرتا ہے تو پھر سچامومن اور مسلم کیسے ٹھہر سکتا ہے ؟لیکن ا وہ جانبازی کرنے والا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کو بڑا ہی پیارا اور محبوب ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو جاتا ہے صحابہؓ نے ہی کیا انہوں نے اپنی جان کی پروا نہ کی ۱؎ اور اپنے خون بہادئیے شہید بھی وہی ہو تا ہے جوجان دینے کا قصد کرتا ہے اگریہ نہیں تو پھر کچھ نہیں ۔
یہ چند کلمے ناگہانی آفات سے بچنے اور سچا مسلم بنے کے لیے ہیں اور اگر انسان ان پر عمل کرے تو طاعون سے بچانے کا یہ بھی ایک ذریعہ ہیں ۔
بلاؤں کے نزول کے وقت دعاؤں میں لگے رہیں
یادرکھو قہرالہیٰ کو کو ئی روک نہیں سکتا وہ سخت چیز ہے خبیث قوموں پر جب نازل ہوا ہے تو وہ تباہ ہو گئی ہیں اس قہر سے ہمیشہ کا مل ایمان بچاسکتا ہے ناقص ایمان بچا نہیں سکتا بلکہ کامل ایمان ہو تو دعائیں بھی قبول ہو تی ہیں اور
ادعونی استجب لکم(المومن:ـ۶۱)
خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو خلاف نہیں ہو تا کیو نکہ
ان اللہ لایخلف المیعاد(آل عمران :۱۰)
اس کا فر مان ہے پس ایسے وقت میں کہ آفت نازل ہو رہی ہے ایک تو یہ چاہیئے کہ ادعائیں رہیں۔۲؎ دوسرے صغائرکبائرسے جہاں تک ممکن ہو بچتے رہیں تدبیروں اور دعاؤں میں لگے رہیں گناہ کا زہر بڑا خطرناک ہے اس کا مزااسی