لا یبغون عنھا حولا(الکھف:۱۰۹) مسیح کا عدم رجوع دو ہی قسم کے لوگ ہو تے ہیں اور دونو کا عدم رجوع ثابت ہے پر معلوم نہیں کہ مسیح کو کس طرح پر واپس لا تے ہیں اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مسیح کا پھر آنا فضول ہے اور جو شخص قرآنِکریم کی اس شہادت اور پھر پیغمبر ﷺ کی شہادت کو منظور نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں ہے آنحضرتﷺ ان کو مردوں میں یحییٰ کے پاس دیکھ آئے ہیں اس پر بھی کو انکار کرتا ہے وہ خبیث ہے ۔ اولاد اور دوسرے متعلقین کی مناسب خبر گیری غرض جبکہ یہ ثابت ہے کہ پھر اس دنیا میں واپس آنا نہیں ہے اور یہاںسے سب قصہ تمام کرکے جائیں گے اور پھر دنیا سے کوئی باقی نہ رہے گا تو املاک واسباب کا خیال کرنا کہ اس کا وارث کو ئی ہو یہ شرکا ء کے قبضہ میں نہ چلے فضول اور دیوانگی ہے ایسے خیالا ت کے ساتھ دین جمع نہیں کرسکتا ہاں یہمنع نہیں بلکہ جائز ہے کہ اس لحاظ سے اولاداور دوسرے متعلقین کی خبرگیری کرے کہ وہ اس کے زیردست ہیں تو پھر یہ بھی ثواب اور عبادت ہی ہو گئی اور خدا تعالیٰ کے حکم کے نیچے ہو گا جیسے فر مایا ہے ویطعمون الطعام علی حبہ مسکیناو یتیما واسیرا(الدھر:۹) اس آیت میں مسکین سے مراد والدین بھی ہیں کیو نکہ وہ بوڑھے اور ضعف ہو کر بے دست وپا ہو جاتے ہیں اور محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پا لنے کے قابل نہیں رہتے اس وقت ان کی خدمت ایک مسکین کی خدمت کے رنگ میں ہو تی ہے اور اس طرح اولاد جو کمزورہو تی ہے اور کچھ نہیں کر سکتی اگر یہ اس کی تر تیب اور پرورش کے سامان نہ کرے تو وہ گو یا یتیم ہی ہے پس ان کی خبرگیری اور پرورش کا تہیہ اس اصول پر کرے توق ثواب ہو گا ۔ اور بیوی اسیر کی طرح ہے اگر یہ عاشروھن بالمعروف (النسائ:۲۰) پر عمل نہ کرے تو وہ ایسا قیدی ہے جس کی کو ئی خبر لینے والا نہیں ہے ۔ غرض ان سب کی غوروپرداخت میں اپنے آپ کو بالکل الگ سمجھے اور ان کی پرورش محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے بلکہ واجعلنا لکمتقین اماما(الفرقان:۷۵) کا لحاظ ہو کہ اولاد دین کی خادم ہو۱؎ لیکن کتنے ہیں کو اولاد کے واسطے یہ دعا کرتے ہیں ۲؎ کہ اولاد دین کی پہلوان ہو بہت ہی تھوڑے