اور دونوں صفتوں میں بھی وہ وحدہ لا شریک ہے۔ پس جب ایسی قادر اور کریم ذات کے ساتھ کوئی کامل تعلق پیدا کرے تو اس سے بڑھ کر خوش قسمت کون ہوگا؟بڑا ہی مبارک اور خوش قسمت ہے وہ شخص جو اس کا فیصلہ کرے۔سرمد نے کیا اچھا کہا ہے ؎ سرمد گلہ اختصارمی باید کرد یک کار ازیں دوکارمی باید کرد یاتن برضائے یارمی باید کرد یا قطع نظر زیارمی باید کرد حقیقت میں اس نے سچ کہا ہے۔ہمارا اگرطبیب کی پوری اطاعت نہیں کرتا تو اس سے کیا فائدہ؟ایک عارضہ نہیں تو دوسرا اس کو لگ جائے گا اور وہ اس طرح پر تباہ اور ہلاک ہوگا۔دنیا میں اس قدر آفتوں سے انسان گھرا ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل اس کے شامل حال نہ ہو اور اس کے ساتھ سچا تعلق نہ ہو تو پھر سخت خطرہ کی حالت ہے۔پنجابی میں بھی ایک مصرعہ مشہور ہے ؎ جے تو میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو یہ من کان للہ کان اللہ لہ ہی کا ترجمہ ہے جب انسان خدا تعالیٰ کا ہوجاتا ہے تو پھر کچھ شک نہیں۔ساری دنیا اس کی ہو جاتی ہے مگر اس وقت بڑے بڑے مشکلات آکر پڑتے ہیں لوگ ہمارے سلسلہ کی مخالفت کے لیے کیا کیا کوشش نہیں کرتے۔ا س کی عدم ضرورت کے واسطے کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ہم نماز اور کلمہ نہیں پڑھتے؟جو لوگ اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں وہ آخر بے نصیب رہ جاتے ہیں۔ برکاتِ نماز کا حصول اس میں شک نہیں کہ نماز میں برکات ہیں مگر وہ برکات ہرایک کو نہیں مل سکتے نماز بھی وہی پڑھتا ہے۔جس کو خدا تعالیٰ نماز پڑھاوے ورنہ وہ نماز نہیں نرا پوست ہے جو پڑھنے والے کے ہاتھ میں ہے۔اس کو مغز سے کچھ واسطہ اور تعلق ہی نہیں اسی طرح کلمہ بھی وہی پڑھتا ہے۔جس کو خدا تعالیٰ کلمہ پڑھوائے۔جب تک نماز اور کلمہ پٹھنے میں آسمانی چشمہ سے گونٹ نہ ملے تو کیا فائدہ؟وہ نماز جس میں حلاوت اور ذوق ہواور خالق سے سچا تعلق قائم ہو کر پوری نیاز مندی اور خشوع کا نمونہ ہو اس کے ساتھ ہی ایک تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے۔جس کو پڑھنے والا فوراً محسوس کرلیتا ہے کہ اب وہ وہ نہیں رہا جو چند سال پہلے تھا ۔