استغفار ۱ ؎ سے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے ۔
ان اللہ یحبالتوابین ویحب المتطھرین۔(البقرۃ:۲۲۳)
سچی توبہ کرنے والا معصوم کے رنگ مین ہو تا ہے پچھلے گناہ تو معاف ہو جاتے ہیں پھر آنئدہ کے لیے خدا سے معاملہ صاف کرلے اس طرح پر خدا کے اولیا ء میں داخل ہو جائیگا اور پھر اس پر کوئی خوف وجزن نہ ہو گا جیسا کہ فرمایا ہے
ان اولیاء اللہ لاخوف علیھم ولا یحذنون(یونس:۶۳)
اولیاء اللہ
خدا تعالیٰ نے ان کو اپنا ولی کہا ہے حالانکہ وہ نے نیاز ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں اس لیے استغناء ایک شرط کے ساتھ ہے ۔
ولم یکن لہولی من الذل(بنی اسرائیل:۱۱۲)
یہ بالکل سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ تھڑکر کسی کو دلی نہیں بناتا۲؎ بلکہ محض اپنے فضل اور عنایت سے اپنے مقرب بنالیتا ہے اس کو کسی کی کو ئی حاجت نہیں ہے اس ولایت اور قرب کا فائدہ بھی اسی کو پہنچتا ہے ہزاروں ہزار فوائد اور امور ہو تے ہیںجو اس کے لیے مفیدثابت ہو تے ہیں اللہ تعالیٰ اسکی دعائیں قبول کرتا ہے اور نہ صرف اسکی دعائیں قبول کرتا ہے بلکہ اس کے اہل وعیال اس کے احباب کے لیے بھی برکات رطاکرتا ہے اور صرف یہانتک ہی نہیں بلکہ ان مقاموں میں برکت دی جاتی ہے جہاں وہ ہو تے ہیں اور ان زمنیوں میں برکت رکھی جاتی ہے اور ان کپڑوں میں برکت دی جاتی ہے جن میں وہ ہوتے ہیں ۔
اصل یہ ہے کہ دل ولی اللہ بننا ہی مشکل ہے بلکہ اس مقام کا سمجھنا ہی دشوار ہو تا ہے کہ یہ کس حالت میں کہا جاوے گا کہ وہ خدا کا ولی ہے انسان اسنسان کے ساتھ ظاہری داری میں خوشامد کر سکتا ہے اور اس کو خوش کر سکتا ہے خواہ دل میں ان باتوں کا کچھ بھی اثر نہ ہو ایک شخص کو خیر خواہ کہہ سکتے ہیں مگر حقیقت میں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خیرخواہ ہے یا کیا لیکن اللہ تعالیٰ تو خوب جانتا ہے کہ اس کی اطاعت ومحبت کس رنگ سے ہے ۔