۲۷؍فروری ۱۹۰۴؁ء (دربارِشام ) آج اعلیٰحضرت حجتہ اللہ علی الارض علیہ الصلٰوۃ والسلام نے مسجد کے بالائی حصہ پر نماز مغرب اداکی اور بعد ادائے نماز مغرب شہ نشین پر اجلاس فرماہوئے چند مہمانوں نے اجازت روانگی حاصل کی بعض احباب خصوصاً سید تفضل حسین صاحب اٹاوی (جو گیارہ سال کے بعد آئے تھے )کو خطاب کر کے فر مایا کہ : آمدن بارادت رفتن باجازت ۔آپ تو سمجھتے ہیں ہی ہیں کہ کب تک آپ کو ٹھہرنا چاہئیے ۔۱؎ اسی ضمن میں طاعون کی شدت کا ذکر ہو گیا اس پر آپ نے سلسلہ کلام یوں فر مایا :۔ اللہ تعالیٰ کیساتھ معاملہ صاف کرو حقیقت میں سچے مسلمان بننے کااب وقت آیا ہے ۱؎ یقین بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ پر جس قسم کا یقین انسان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ویسا ہی معاملہ کرتا ہے پس ضروری امریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صاف کروتا وہ بھی تم پر رحم کرے کیو نکہ سچ یہی ہے ۔ من کام اللہ کان اللہ لہ۔ طاعون سے وفات احادیث سے معلوم ہو تا ہے کہ بعض صحابہؓ بھی طاعون سے فوت ۲؎ ہوئے لیکن ان کے لیے وہ شہادت تھی مومن کے واسطے یہ شہادت