اس یہی مطلب ہے کہ اپنے نفس کو فراموش کر کے دوسرے کے عیوب کو نہ دیکھتا رہے بلکہ چاہیئے کہ اپنے عیوب کو دیکھے چو نکہ خود تو وہ پابندان امور کانہیں ہو تا اس لیے آخر کار
لم تقولون مالا تفعلون(لصف:۳)
کا مصداق ہو جاتا ہے ۔
تقویٰ حاصل کرنے کا طریق
اخلاص اور محبت سے کسی کو نصیت کرنی بہت مشکل ہے لیکن بعض وقت نصیحت کرنے میں بھی ایک پوشیدہ بعض اور کبرملا ہوا کرتا ہے اگر خالص محبت سے وہ نصیحت کرتے ہو تے تو خدا تعالیٰ ان کو اس آیت کے نیچے نہ لاتا بڑا سعید وہ ہے جواول اپنے عیوب کو دیکھے ان کا پتہ اس وقت لگتا ہے جب ہمیشہ امتحان لیتا رہے یادرکھو کہ کو ئی پاک نہیں ہو سکتا جبتک خدا اسے پاک نہ کرے جب تک اتنی دعا نہ کرے کہ مر جاوے تب تک سچی تقوے ٰ حاصل نہیں ہو تی اس کے لیے دعا سے فضل طلب کر نا چاہیئے اب سوال ہو سکتا ہے کہ اسے کیسے طلب کرنا چاہیئے تواس کے لیے تدبیر سے کام لینا ضروری ہے جیسے ایک کھڑکی سے اگر بدبو آتی ہے تواس کا علاج یہ ہے کہ یااس کھڑکی کو بند کرے یا بد نودار شئے کو اٹھا کر دور پھینک دے پس کو ئی اگر تقویٰ چاہتا ہے اور اس کے لیے تد بیر سے کام نہیں لیتا تووہ بھی گستاخ ہے کہ خدا کے عطا کردہ قویٰ کو بیکار چھوڑتا ہے ہرایک عطاء الہیٰ کو اپنے محل پر صرف کرنا اس کا نام تد بیر ہے جو ہر ایک مسلمان کا فرض ہے ہاں جو نری تد بیر پر بھروسہ کرتا ہے وہ بھی مشرک ہے اور اسی بلامیں مبتلا ہو جاتا ہے جس میں یورپ ہے تدبیر اور دعا نونو کا پورا حق ادا کر نا چاہیئے تد بیر کرکے سوچے اور غور کرے کہ مَیں کیا شئے ہوں فضل ہمیشہ خدا کی طرف سے آتا ہے ہزار تد بیر کرو ہرگز کام نہ آوے گی جب تک آنسونہ نہیں سانپ کے زہر کی طرح انسان میں زہر ہے اس کا تریاق دعا ہے جس کے ذریعہ سے آسمان سے چشمہ جاری ہوتا ہے جو دعا سے غافل ہے وہ مارا گیا ایک دن اور رات جس کی دعا سے خالی ہے وہ شیطان سے قریب ہوا ہرروز دیکھنا چاہیئے کہ جو حق دعاؤں کا تھا وہ ادا کیا ہے کہ نہیں نماز کی ظاہری صورت پر اکتفاکرنا نادانی ہے اکثر لوگ رسمی نماز ادا کرتے ہیں اور بہت جلدی کرتے ہیں جیسے ایک ناواجب ٹیکس لگا ہوا ہے جلدی گلے سے اتر جاوے بعض لوگ نماز تو جلدی پڑھ لیتے ہیں لیکن اس کے بعد دعا اس قدر لمبی مانگتے ہیں کہ نماز کے وقت سے دگنا تگنا وقت لے لیتے ہیں حالا نکہنماز تو خود دعا ہے جس کو یہ نصیب نہیں ہے کہ نماز میں دعا کرے اس کی نماز ہی نہیں چاہیئے کہ اپنی نماز کو دعا سے مثل کھا نے اورسروپانی کے لذیذ اور مزیدار کرلو ایسا نہ ہو کہ اس پر ویل ہو۔
فضائل نماز
نمازخدا کا حق ہے اسے خوب ادا کرو اور خدا من سے مداہنہ کی زندگی نہ برتو ۔وفااور صدق کا خیال رکھو اگر ساراگھر غارت ہوتا ہو تو ہو نے دو مگر نماز