ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ نئے نئے عیسائی مسلمان ہو کر ان میں ملتے گئے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ایک نئی قوم کسی مذہب میں داخل ہوتو اپنے مذہب کی رسوم اور بدعات جو وہ ہمراہ لاتی ہے اس کا کچھ حصہ نئے مذہب میں مل جاتا ہے ایسے ہی عیسائی جب مسلمان ہو ئے تو یہ خیال ہمراہ لائے اور رفتہ رفتہ مسلمانوں میں پختہ ہو گیا ہاں جن لوگوں نے ہمارا زمانہ نہیں پایا نپ اس مسئلہ پر انہوں نے بحث کی وہ تلک امۃ قدخلت(البقرۃ:۱۳۵) کے مصداق ہو ئے لیکن اب جو ہمارے مقابلہ پر آئے اور اتمام حجت ان پر ہوا وہ قاتل اعتراض ٹھہر گئے ہیں اگر ان لوگوں کے اعمال صالحہ ہو تے تو یہ عقیدہ ان میں رواج نہ پاتا جب وہ چھوٹ گئے تو ایسے ایسے عقائد شامل ہو گئے ۔ اعمال ِصالحہ کثرت سے بجالائیں پس جو شخص ایمان کو قائم رکھنا چاہتا ہے وہ اعمال صالحہ میں ترقی کرے یہ روحانی امورہیں اور اعمال کا اثر وقائد پر پڑتا ہے جن لوگوں نیبدکاری وغیرہ اختیا ر کی ہے ان کو دیکھو تو آخر معلوم ہو گا ان کا خدا پر ایمان نہیں ہے حدیث شریف میں اسی لیے ہے کہ چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اس کے یہی معنے ہیں کہ اس کی بداعمالی نے اس کے سچے اور صحیح عقیدہ پر اثر ڈال کراسے ضائع کردیا ہے ہماری جماعت کو چا ہیئے کہ اعمال کثرت سے بجالاوے اگراس کی بھی یہی حالت رہی جیسے اوروں کی تو پھر امتیاز کیا ہوا؟ اور خدا تعالیٰ کو ان کی رعایت اور حفاظت کی کیا ضرورت ؟خدا تعالیٰ اسی وقت رعایت کرے گا ،جب تقویٰ ،طہارت اور سچی اطاعت سے اسے خوش کروگے یاردکھو کہ اس کا کسی سے کچھ رشتہ نہیں ہے محض لاف اور وہ گوئی سے کوئی بات نہیں بناکرتی ۔ سچی اطاعت ایک موت ہے ۔ جو نہیں بجالاتا وہ خدا تعالیٰ سے شطرنج بازی کرتا ہے کہ مطلب کے وقت تو خدا سے خوش ہوتا ہے اور جب مطلب نہ ہو تو ناراض ہو گیا مومن کا یہ دستور نہین چاہیئے بھلا غور تو کرو کہ اگر خدا تعالیٰ ہر ایک میدان میں کامیابی دیتا رہے اور کوئی ناکامی کی صورت کبھی پیش نہ آے تو کیا سب جہاں موحد نہیں ہو سکتا ؟ اور خصوصیت کیا رہے گی اسی لیے جو مصیبت میں وفا اور صدق رکھے گا خدا تعالیٰ اسی سے خوش ہوگا ۔ نماز کو سنوار کرادا کریں نماز ایسے اداد نہ کرو جیسے مرغی دانے کے لیے ٹھونگ مارتی ہے بلکہ سوزوگداز سے ادا کرو اور دعائیں بہت کیا کرو نماز مشکلات کی کنجی ہے ماثورہ دعاؤں اور کلمات کے سوااپنی مادی زبان میں بھی بہت دعاکیا کرو تا اس سے سوزوگداز کی تحریک ہو اور جب تک سوزو گدازنہ ہوا سے ترک مت کرو کیو نکہ اس سے تزکئیہ نفس ہوتا ہے اور سب کچھ ملتا ہے چاہئیے کہ نماز کی جس قدر جسمانی صورتیں ہیں ان سب کے ساتھ دل بھی ویسے ہی تابع ہو اگر جسمانی طور ہرکھڑے ہو تو دل