واقعی آسمان پر زندہ ہوتا اور عیسائی اسے خدائی کی دلیل گردانتے تو اللہ تعالیٰ اس کا بھی ردّکرتا اور چند ایک نظائر پیش کرتا کہ فلاں فلاں اور نبی زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ہر ایک پہلو سے ان لوگوں پو اتمامحجت ہو چکا ہے۔اب یہ لوگ مصداق صم بکم عمی کے ہیں۔بھلا دیکھو تو جس حال میں کی مَیں زندہ موجود ہوں کیا ان کا حق نہ تھا کہ مجھ سے آکر سوال کرتے پوچھتے اور اپنے شکوک وشہبات پیش کرتے۔مَیں نے بار ہا لکھا کہ ان کے اخرجاتِ سفر دینے کومَیں تیار ہوں یہاں آویں مکان بھی دونگا حتیٰ الوسعی مہمان نوازی بھی کروں گا لیکن یہ لوگ اِدھر رخ نہیں کرتے۔ہمیں کہتے ہیں کہ قرآن سے باہر ہیں حالانکہ قرآن ہی نے تو ہمیں اس کوچہ میں کھینچا ہے صرف فرق اتنا ہے کہ ہمیں قرآن کے معنے وحی نے بتلائے ہیں۔اس کے ہوتے ہوئے دیدہ دانستہ کیسے اپنی آنکھوں کو پھوڑ لیں۔ خدا تعالیٰ کا یہ فرض تھا کہ اگر عیسائی لوگ مسیح کو خدائی کے لیے خصوصیت پیدا کریں تو وہ اس کا ردّکرتا جیسے آدم کی مثال بیان کی۔کیا خدا کو اس خصوصیت کا علم نہ تھا کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے پھر اس کا اس نے کیوں ردّ نہ کیا؟اس طرح سے قرآن پر حرف آتا ہے اگر مسیح آسمان پر زندہ ہوتا اور عیسائی لوگ اس سے خدائی کی دلیل پکڑتے تو خدا تعالیٰ ضرور بیان کرتا کہ فلاں فلاں انبیاء بھی آسمان پر موجود ہیں اس سے کوئی خدا نہیں بن سکتا جبکہ چالیس کروڑ انسان اسے آگے ہی خدا مان کر گمراہ ہو رہے ہیں تو تم نے ان کے ساتھ مل کر اور وہاں میں ہاں ملا کر اس کی خدائی پر مہر لگا دی۔اس کا باعث صرف ان لوگوں کی بدعملی ہے کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اورکھانے کے اور۔اور ایک ایک روپیہ لے کر فتوے بدل دیتے ہیں۔اندرونی راستبازی بالکل نیست ونابود ہوگئی اور اب حدیث شریف کے موافق بالکل یہودی ہوگئے ہیں۔یہ امید تو ہے نہیں کہ یہ لوگ ان سچائیوں کو مانیں ہاں ان کی ذریت مانے تو مانے۔ اس کے بعد آپ نے مقدمات کا تذکرہ کیا کہ ان کی ابتدا کیونکر ہوئی۔کس طرح اول دین نے مولوی عبد لاکریم صاحب کو بذریعہ خطوط اطلاع دی کہ مہر علی شاہ نے فیضی متوفی کی کتاب سے سر قہ کیا ہے۔اس کی اطلاع پر کتاب نزول المسیح لکھی گئی۔پھر اس نے اپنے خطوط کے بر خلاف ایک مضمون سراج الاخبار میں لکھ کر سب وشتم کیا اور ان کو اپنی طرف منسوب کرنے سے انکار ی ہوا۔اس طرح سے ہمارا چلتا کام بند ہوگیا۔تنگ آکر حکیم صاحب نے دعویٰ کیا۔پھر کرم دین نے جہلم میں ہم پر ایک مقدمہ کیا وہ بڑا خطرناک مقدمہ تھا۔اس کے متعلق میں نے اول ہی خواب دیکھے تھے جو کہ شائع کردی تھی۔اس میں ہمیں کامیابی ہوئی۔پھرکرم دین نے خودہم پر استغاثہ دائر کیا۔وہ مقدمات ابھی چل رہے ہیں۔منصب حاکم کو تو خود خبر نہیں ہوتی کہ انجام کار مقدمہ کی کیا صورت ہوگی۔ہماری تائید تو ہمیشہ خدا تعالیٰ سے ہوتی ہے ورنہ جمہوری چور پر تو حکام کا میلان ہماری طرف کم ہی ہوتا