فر ماتا ہے کہ بلا نظیر کے کوئی بات قبول نہ کرو آنحضرتﷺ کی رسالت کے لیے اس نے نظائر پیش کئے مسیح کی حیات کے لیے بھی کو ئی نظیر ہو نی چاہیئے تھی۔ یہ زمانہ اسلام کیبہار کا ہے۔اگر ہم چُپ بھی کریں تو خدا تعالیٰ باز نہ آوے گا اور اصل میں ہم کیا کرتے ہیں وہ تو سب کچھ خدا ہی کررہا ہے ۔ہم تو صرف اسی لیے بولتے اور لکھتے ہیں کہ ثواب ہو اب اس کے فضل کا دروازہ کھل گیا ہے اور خدا نے جو ارادہ کر لیا ہے وہ ہو کر رہے گا۔دیکھو نہ ہمارے واعظ ہیں نہ لیکچرار ہیں نہ انجمنین ہیں مگر جماعت ترقی کر رہی ہے۔ہزاروں نے صرف خواب کے ذریعہ سے بعیت کی۔کوئی ان کو بتلانے اور سمجھانے والا نہ تھا۔آخر خدا نے دستگیری کی۔کیا ہماری طاقت تھی کہ ہم کچھ کر لیتے؟یہ اس کا ہاتھ ہے جو کر رہا ہے۔صدق ایسی شئے ہے کہ انسان کے دل کے اندر جب گھر کر جاوے تو اس کا نکلنا مشکل ہے۔جو لوگ ہمارے عقاید کو بعد تحقیق قبول کر لیتے ہیں تو جان سے زیادہ ان کو عزیز جانتے ہیں ایک نمونہ مولوی عبد اللطیف ہیں کہ ہزاروں مرید رکھتے ھے۔ریاست ان کی تھی۔دولت بھی بے شمار تھی۔شاہی دستار بند تھے۔سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر موت قبول کی۔کیا یہ قوت اور برکت جھوٹ میں ہوسکتی ہے؟کیا بجز سچائی کے اور بھی کسی میں یہ طاقت ہے؟یہاں(پنجاب میں بھی)نہت سے لوگ ہیں کہ صرف ایمان کے لیے تکلیف دیئے جاتے ہیں۔قوم،برادری اور گائوں والے ان کو طرح طرح کی اذّیت صرف اس لیے دیتے ہیں کہ انہوں نے سچ کو قبول کیا ہے پس اگر خدا تعالیٰ دلوں میں نہیں ڈالتا تو وہ ان مصائب کو کیونکر برداشت کرتے ہیں یہانتک کہ حقیقی باپ اور بھائی بھی ان لوگوں سے الگ ہو جاتے ہیںبعض ایسے ہیں کہ دو آنے روز محنت کرکے کماتے ہیں اور اس میں سے دو پیسے ہمیں چندہ دیتے ہیں۔تہجد پڑھتے ہیں نمازوں کے پابند ہیں۔خدا تعالیٰ کے آگے تضرع اور ابتہال کرتے ہیں۔اب سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ ان کو نورِایمان عطا کرے اور دلوں میں صدق ڈالے یہ سب کچھ کب حاصل ہو سکتا ہے۔دیکھنے اور سمجھنے کے لیے تو ایک نشان کتا براہین ہی بس ہے جیسے کہتے ہیں کہ ؎ حرفے بس است اگر درخانہ کس است سمجھ دار آدمی کے لیے ایک ہی بات کافی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے عمر کاوعدہ دیا۔بتلائو کوئی کہہ سکتا ہے کہ مَیں اتنے برس ضرور زندہ رہوں گا۔پھر جتنے وعدے براہین میں تھے ان میں سے اکثر پورے ہوگئے ہیں اور کچھ ابھی باقی ہیں۔اگر انسان کا کاروبار ہوتا تو اس قدر نصرت کب شامل حال ہو سکتی ؟اور وہ وعدے اگر خدا کی طرف سے نہ تھے تو کیسے پورے ہوکر رہتے؟ پس وقت کو،زمانہ کو،ضلالت کو اندرونی اور بیرونی حالت کو دیکھو تو خود پتہ لگ جاتا ہے۔مخالفوں سے ہم ناراض نہیں ہیں کیونکہ راستی کا مقابلہ جان توڑ کر ہوا کرتا ہے۔آنحضرت ﷺ کا دیکھو کس قدر مقابلہ ہوا لیکن کیا