مطلق جاہل سے انسان گھبرا جاتا ہے۔بہرحال کچھ تو پڑھے لکھے وہاں ہیں اور انگریزی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے اگرچہ انگریزوں کی تعلیم کا مضراثر کتنا ہی کیوں نہ ہو مگر تاہم یہ گائدہ ضرور ہے کہ فہم میں وسعت اور باتوں کے سمجھنے کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے اور ہمیںایسے ہی آدمیوں کی ضرورت ہے۔رفتہ رفتہ پیدا ہو ہی جاویں گے۔وحشی لوگ جن کو کھانے پینے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے۔ان سے انسان کیا کلام کر سکت ہے۔اس تعلیمیا فتہ گروہ پر اگر چہ دنیا کا حجاب ہے مگر تاہم سعد فطرت لوگ سمجھ سمجھ کر ہماری جماعت میں آرہے ہیں۔اب ہماری جماعت کا ایک حصّہ انہی میں سے ہے۔ہم خود تو کسی کو یہاں بیٹھے ہوئے بلا نہیں رہے آخر خود ہی سمجھ کر آرہے ہیں۔ غرضکہ فہم اور عقل والے پر بڑی امید ہوتی ہے۔نرے ڈنگر(بیل)سے انسان نے کیا بات کرنی ہے۔لوگوں کو کچھ ملانوں نے خراب کیا ہے کچھ جاہل فقیروں نے اور بعض لوگ لنگوٹی پوشوں کے معتقد ہوتے ہیں۔کچھ ہی کیوں نہ ہو خدا تعالیٰ کے کام ُرکانہیں کرتے۔اگر ایک شخص زمین پر باغ بناتا ہے تو اوآل دیکھ لیتا ہے کہ باغ کے قابل زمین ہے کہ نہیں۔اگر اسے بنجر پاتا ہے تو صاف کرتا اور پھوڑتا اور ڈھیلوں کو یوڑتا ہے تب باغ بناتا ہے۔پس وہ مالک الملک جو کہ اب یہ باغ تیار کرنے لگا ہے آخر اس نے دیکھ لیا ہوگا کہ کچھ سعید چبائع بھی ہیںاسی تعلیم کی برکت سے کئی لوگ ہماری کتب کو دیکھ کر ہدایت پاگئے ہیں حالانکہ ابتدا میں سخت مخالف تھے۔ خدا کے وعدے برحق ہیں ایک عقلمند بیشک گھبراہٹ میں پڑتا ہے کہ صلیبی فتنے اور کارروائیاں حددرجہ تک تر قی کر چکے ہیں ان کی کتابیں دور دورتک پھیل گئی ہیں مجموعی حالت میں ان کی جان توڑکو ششون کو دیکھا جاتا ہے تو ناامیدی ہو جاتی ہے کہ الہیٰ ان کا استیصال کیسے ہو گا اور صفحئہ زمین پر توحید کیسے پھیلے گی؟ کل اسباب اسلام کے ضعف کے موجود ہیں اور صلیب کا زور ہے مگر ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اس کا ارادہ ہو کر رہتا ہے ۔ الم لعلم ان اللہ علی کل شئی ء قدر (البقرۃ:۱۰۷) صرف ایک ہی بات ہے جو بھروسہ دلا تی ہے اگر چہ کیسی ہی مشکلات آپڑیں اور عقل فتو ے دیوے کہ اب اسلام دوبارہ قائم نہیں ہو سکتا لیکن مَیں اس بات کو نہیں مانتا جب خدا تعالیٰ ارادہ کرتا ہے تو کرکے رہتا ہے اس قسم کی رائیں ہمیشہ ہو تی رہتی ہیں اور غلط بھی ثابت ہو رہی ہیں آنحضرت ﷺ جس زمانہ میں معبوث ہو ئے کیا ان کی نسبت اہل الرائے کی یہ رائے تھی ؟ کو ن تھا یہ یقین کرتا کہ ایک غریب جس کے پاس نہ قوت نہ شوکت نہ فوج نہ مال ہے اور ہر طرف مخالفت ہے وہ کا میاب ہو کر رہے گا اور جو وعدے فتح اور نصرت اور اقبالمندی کے وہ دیتا ہے پورے ہو کر رہیں گے مگر باوجود اس نا امیدی کے پھر کیسی امید بند ھ گئی اور تمام وعدے پورے ہوگئے۔ الیوم اکملت لکم دینکم(المائدہ :۴) کی گواہی مل گئی اور پھر اذاجاء نصراللہ والفتح(النصر:۲) کی سورۃ نازل ہو ئی ایسے ہی ممکن ہے کہ کوئی ہماری