اگراولاد کی خواہش کرے تواس نیت سے کرے
واجعلناللمتقین اماماً(الفرقان:۷۵)
پر نظر کر کے کرے کہ کو ئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلا ئکلمتہ الا سلام کا ذریعہ ہو جب ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ زکریا کی طرح اولاد دیدے مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی نظر اس سے آگے نہیں جاتی کہ ہمارا باغ ہے یااَور ملک ہے وہ اس کا وارث ہو اور کوئی شریک اسکو نہ لے جائے مگر وہ اتنا نہیں سوچتے کہ کمبخت جب تو مرگیا تو تیرے لیے دوست دشمن اپنے بیگا نے سب برابرا ہیں مَیں نے بہت سے لوگ ایسے دیکھے اور کہتے سنے ہیں کہ دعا کرو کہ اولاد ہو جائے جواس جائداد کی وارث ہو ایسا نہ ہو کہ مرنے کے بعد کو ئی شریک لے جاوے اولاد ہو جائے خواہ وہ بدمعاش ہی ہو یہ معرفت اسلام کی رہ گئی ہے برخلاف اس کے مومن اگر مکان بناتا ہے تو اس میں بھی اس کی نیت دین ہی کی ہو تی ہے لباس ،خوراک ،اس کا پھر نا غرض ہر کام دین ہی کے واسطے ہو تا ہے وہ خوراک کھا تا ہے مگر مو ٹا ہو نے کے واسطے نہیں بلکہ اس طرح ے یکہ بان کچھ دور جا کر اپنے ٹٹو کو نہاری اور خوراک دیتے ہیں تا کہ وہ اگلی منزل چلنے کے واسطے تیار ہو جائے اور دم نہ نکل جائے مومن کی غرض بھی خوراک سے یہی ہو تی ہے کیو نکہ نفس کا بھی تو ایک حق ہوتا ہے اور اہل وعیال کا بھی اور پھر خدا تعالیٰ کا حق الگ ہے اگر نفس کے حق کی رعایت نہ ہو تو پھر وہ مَرجائے گا اور یہ جو ابدہ ہے ۔
پس یادر کھو کہ مومن کی غرض ہر آسائش ،ہر قول وفعل ،حرکت وسکون سے گو بظاہر نکتہ چینی ہی کا موقعہ ہو مگر دراصل عبادت ہو تی ہے بہت سے کام ایسے ہو تے ہیں کہ جاہل اعتراض سمجھتا ہے مگر خدا کے نزدیک عبادت ہو تی ہے ۱ ؎ لیکن اگر اس میں اخلاص کی نیت نہ ہو تو نماز بھی لعنت کا طوق ہو جاتی ہے ۔
مو منوں کو
کلواواشربوا(الطور:۲۰)
کا حکم دیا اور جو خدا کے لیے نماز نہیں پڑھتے ان کو
ویل للمصلین(الماعون:۵)
فر مایا
کلوا
ایک امر ہے جب مومن اس کو سمجھ کر بجالاوے تو اس کا ثواب ہو گا ۔اسی طرح
عاشر وھن بالمعروف(النساء:۲۰)
امر کی بجاآوری سے ثواب ہو تا ہے لیکن اگر ریا کاری سے نماز بھی ادا کرے تو پھر اس کے لیے ویل ۲؎ ہے ۔