سریع الغضب ہو نا باقی ہے جو دوسروں میں بھی ہے تو پھر فرق ہی کیا ہے ؟۱؎ سعید اگر ایک ہو اور وہ سارے گائوں میں ایک ہی ہوتو لوگ کرامت کی طرح اس سے متاثر ہوں گے۔نیک انسان کو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر نیکی اختیار کرتا ہے اس میں ایک ربّانی رُعب ہو تا ہے اور دلوں میں پڑ جاتا ہے کہ یہ باخدا ہے ۔۲؎ یہ بالکل سچی بات ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے خدا تعالیٰ اپنی عظمت سے اس کو حصّہ دیتا ہے اور یہی طریق نیک بختی کا ہے۔
پس یاد رکھو کہ چھوٹی چھوٹی باتوں ۳؎ میں بھائیوں کو دکھ دینا ٹھیک نہیں ہے ۔آنحضرت ﷺ جمیع اخلاق کے متمِم ہیں اور اس وقت خداتعالیٰ نے آخری نمونہ آپ کے اخلاق کا قائم کیا ہے ۔اس وقت بھی اگر وہی درندگی رہی تو پھر سخت افسوس اور کم نصیبی ہے ۔پس دوسروں پر عیب نہ لگائو کیو نکہ بعض اوقات انسان دوسرے پر عیب لگا کر خود اس میں گرفتار ہو جاتا ہے اگر وہ عیب اس میں نہیں لیکن اگر وہ عیب سچ مچ اس میں ہے تو اس کا معاملہ پھر خدا تعالیٰ سے ہے۔
بہت سے آدمیوں کی عادت ہو تی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں پر معاً ناپاک الزام لگا دیتے ہیں ۔ان باتو ں سے پر ہیز کرو ۔بنی نوح انسان کو فائدہ پہنچائو اور اپنے بھائیوں ۴؎سے ہمدردی ۔ہمسایوں سے نیک سلوک کرو ۔اور اپنے بھائیوں سے نیک معاشرت کرو اور سب سے پہلے شرک سے بچو کہ یہ تقویٰ کی ابتدائی اینٹ ہے ۔
(الحکم جلد ۸نمبر۸صفحہ ۷،۸مورخہ ۱۰ مارچ۱۹۰۴ء )
۲۱ فر وری ۱۹۰۴ء
(بوقت ظہر)
ابتلاء اور دشواریاں
مقدمات کے تذکرہ پر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ:۔