شرارتوں سے باز نہیں آتے جو خدا کی باتوں سے کی جاتی ہیںیہ عذاب پیچھا چھوڑتا نظر نہیں آتا،لیکن جب انسان توبہ اور استغفار کرتا ہے اور اپنے اندر ایک پاک تبدیلی کا نمونہ دکھاتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ بھی رجوع برحمت کرتا ہے مگر مَیں دئکھتا ہوں کہ ابھی تک کائی تبدیلی نہیں ہوئی اسی طرح فسق وفجور کا بازار گرم ہے اور قسم قسم کے گنا ہ اس زمین پر ہورہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی عذب الہیٰ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔پہلی کتابوں میں بھی اس وبا کے متعلق اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ قیامت عام مری پڑے گی سو اب وہ دن قریب آگئے ہیں اور مری پڑرہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب زمانہ کا آخر ہے۔ اس بات کو مکر ریا رکھو کہ جب نخل و حسد اور فسق وفجور کی زہریلی ہوا پھیل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہوجاتی ہے اور جس طرح پر اللہ تعالیٰ سے ہراساں وترساں ہونا چاہئیے وہ نہیں رہتا۔یہ ایسی ہی ہوتی ہے۔جیسے بعض اوقات ہیضہ کی زہریلی ہوا پھیلتی ہے اور تباہ کرتی ہے اس وقت بعض تو ایسے ہوتے ہیں جو اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور جو بچ رہتے ہیں ان کا بھی یہ حال ہوتا ہے کہ صحت درست نہیں رہتی۔ہاضمہ کا فتور یا اور اسی قسم کی خرابیاں ہو کرپیدا ہو جاتی ہیں۔اسی طرح پر جب گناہ کی وبا پھیلتی ہے تو بعض تو اس میں بالکل ہلاک ہو جاتے ہیں اور جو بچ رہتے ہیں ان کی بھی روحانی صحت میں فرق آجاتا ہے۔سو یہی حال اب ہورہا ہے۔اکثر ہیں جو کھلے طور پر بے حیائیوں اور بدکاریوں میں مبتلا ہیں اور وہ تقویٰ اور خدا ترسی سے ہزاروں کوس دور جاپڑے ہیں اور جو رسمی طور پر دیندار کہلاتے ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ کتاب وسنت سے الگ ہو رہے ہیں۔اپنے خیال اور رائے سے جو جہی میں آتا ہے کر گذرتے ہیں۔اور حقیقت اور مغز کو چھوڑ کر پوست اور ہڈیوں کو لیے بیٹھے ہیں۔اس لیے خدا تعالیٰ نے اپنی سنت کے موافق ایک عذاب بھیجا ہے کیونکہ وہ ایسی حالت میں قیامت سے پہلے اس دنیا کو قیامت بنا دیتا ہے اور ایسی خوفناک صورتیں پیدا ہوجاتی ہیں کہ زندگی قیامت کا نمونہ ہوجاتی ہے اور اب یہ وہی دن ہیں کیونکہ مَیں دیکھتا ہوں کہ سچائی سے بجائے محبت کے بغض کیا جاتا ہے اور عملی حالتیں خراب ہوچکی ہیں۔غلط اعتقادت پر ایسا زور دیا گیا ہے کہ حدّ اعتدال سے بہت تجاوز ہوگیا ہے اور اس حالت پر پہنچ گیا ہے جسکو اعتداء کہتے ہیں۔ اسلام پر عیسائیت کی یلغار ساری قوموں کو دیکھو کہ تیرہ سو برس سے بالکل خاموش اور چپ چاپ تھے اگرچہ اسلام کے ساتھ ان کی لڑائیاں بھی ہوتی رہیں مگر وہ شوخیاں اور شرارتیں جواب اسلام کے استیصال اور نا بود کرنے کے واسطیکی جاتی ہیں نہیں کی جاتی تھیں اور وہ مذہبی زہر نہ تھا جو آج ہے۔پچاس برس پہلے اگر ان کتابوں کو تلاش کریں جو اسلام کے خلاف لکھی گئی تھیں تو شاید ایک ۱؎ ایک بھی نہ ملے،لیکن اب اس قدر کتابیں۔اخبارات اور رسالے۔اشتہارات نکلتے ہیں کہ