تقویٰ حقیقت میں ایک موت ہیَ۔ کامل طور پر جب تقویٰ کا کوئی مرحلہ باقی نہ رہے تو پھر یہ اولیاء اللہ میں داخل ہوجاتا ہے اور تقویٰ حقیقت میںاپنے کامل درجہ پر ایک موت ہے کیونکہ جب نفس کی سارے پہلوئوں سے مخالفت کرے گا تو نفس مرجاوے گا۔اسی لیے کہا گیا ہے کہ موتو اقبل ان تمو توا۔ نفس ۳؎ تَوْ سَن گھوڑے کی طرح ہوتا ہے اور جو لذت تبتّل اور انقطاع میں ہوتی ہیںاس سے بالکل ناآشنا ہوتا ہے۔جب اس پر موت آجاوے گی تو چونکہ خلا محال ہے اس لیے دوسری لذات جو تبتّل اور انقطاع میں ہوتی ہیںشروع ہو جائیں گی۔یہی وہ بات ہے جس کی ہماری ساری جماعت کو ہر وقت مشق کرنی چاہئیے۔۲؎ جیسے جب تختیوں پر بار بار لکھتے ہیں تو آخرخوش نویس ہو جاتے ہیں۔ والذین جاھد و افینا (العنکبوت:۷۰) میں یہی مجاہدہ سے مراد یہی مشق ہے کہ ایک طرف دعا کرتا رہے دوسری طرف کامل تدبیر کرے۔آخر اللہ تعالیٰ کا فضل آجاتا ہے اور نفس کا جوش وخروش دب جاتا اور ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور ایسی حالت ہوجاتی ہے جیسے آگ پر پانی ڈال دیاجاوے۔بہت سے انسان ہیںجو نفسِ امارہ ہی میں مبتلا ہیں۔ اپنے بھا ئیوں کی پردہ پوشی کرو مَیں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں باہم نزاعیں بھی ہوجاتی ہیں اور معمولی نزاع سے پھرایک دوسرے کی عزّت پر حمل کرنے لگتا ہے اور اپنے بھائی سے لڑتا ہے۔یہ بہت ہی نا مناسب حرکت ہے۔یہ نہیں ہونا چاہئیے بلکہ ایک اگر اپنی غلطی کا اعتراف کرلے تو کیا حرج ہے۔