اللہ تعالیٰ یہی نہیں کہ اس کو پاک کر دے گا بلکہ وہ اس کا متُکفل اور مُتولیّ بھی ہو جاوے گا۱؎ اور اسے خبیثات سے بچائے گا ۔ الخبیثت للخبیثین ۲ ؎ (سورۃ النور:۲۷) کے یہی معنے ہیں اندرونی معصیت ،ریا کاری، عُجب ،تکبر ،خوشامد ،خود پسندی ،بدظنی اور بدکاری وغیرہ وغیرہ خباثتوں سے بچنا چاہئیے اگر اپنے آپ کو ان خباثتوں سے بچاتا ہے تواللہ تعالیٰ اسکو پاک ومطہرکر دے گا ۔ تقویٰ اور اسکے حصول کا طریق مگر ضروری امریہ ہے کہ پہلے یہ سمجھ لے کہ تقویٰ کیا چیز ہے اور کیو نکر حاصل ہو تا ہے تقویٰ تو بہ ہے کہ باریک درباریک پلیدگی سے بچے اور اس کے حصول کا یہ طریق ہے کہ انسان ایسی کامل تدبیر کرے کہ گناہ کے کناہ تک نہ پہنچے اور پھر نری تدبیرہی کو کافی نہ سمجھے بلکہ ایسی دعا کرے جواس کا حق ہے کہ گدرز ہو جاوے بیٹھ کر، سجدہ میں ،رکوع میں ،قیام میں اور تہجدّ میں ،غرض ہر حالت اور ہر وقت اسی فکر ودعا میں لگا رہے کہ اللہ تعالیٰ گناہ اور معصیب کی خباثت سے نجات بخشے اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہے کہ انسان گناہ اور معصیب سے محفوظ اور معصوم ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں راست باز اور صادق ٹھہر جاوے ۔ تد بیر اور دعا کا کامل اتحاد لیکن یہ نعمت نہ تو نری تد بیر سے حاصل ہو تی ہے اور نہ نری دعا سے بلکہ یہ دعا اور تدبیر دونو کے کامل اتحاد سے حاصل ہو سکتی ہے جو شخص نری دعا ہی کرتا ہے اور تد بیر نہیں کرتا وہ شخص گناہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کو آزماتا ہے ایسا ہی جو نری تد بیر کرتا ہے اور دعا نہیںکرتا وہ بھی شوخی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے استغنا ظاہر کرکے اپنی تجویز اور تدبیر اور زورِبازو سے نیکی حاصل کر نا چاہتا ہے لیکن مو من اور سچے مسلمان کا یہ شیوہ نہیں وہ تد بیر اور دعا دونوسے کا م لیتا ہے پوری تد بیر کرتا ہے اور پھر معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ کر دعا کرتا ہے اور یہی تعلیم قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ میں دی گئی ہے چنانچہ فر مایا ہے ۔ ایاک نعبد وایاک نستعین ۱؎ (الفاتحۃ:۵) جو شخص اپنے قویٰ سے کام نہیں لیتا وہ نہ صرف