تد بیر تدبیر سے مراد وہ ناجائز وسائل نہیں ہیں جو کہ آج کل لوگ استعمال کرتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے احکام کے موافق ہر ایک سبب اورذریعہ کی تلاش کا نام تدبیرہے۔ایسے ہی انسان کو اپنے نفس کے تزکیہ کے لیے تدبیر سے کام لینا چاہیئے اور شیطان جو اس کے پیچھے ہلاک کرنے کو لگا ہے اس کو دور کرنے کے واسطے تدابیر بھی سوچنی چا ہیئں بلکہ صوفیاء نے لکھا ہے کہ کسی سے فریب کرنا اگرچہ ناجائز ہے،لیکن شیطان کے ساتھ یہ جائز ہے۔غرضیکہ متقی بننے کے لیے دعا بھی کرو اورتدابیر بھی کرو۔ دعا سے خدا تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے لیکن اگر انسان نے تدابیرسے کچھ تیاری نہ کی ہوئی ہو تو وہ فضل کس کام آوے گا۔اس کی مثال ایسی ہے کہ کسان اپنی زمین کی کلبہ رانی تو نہ کرے نہ اسے صاف کرے نہ سہاگہ وغیرہ پھیرے صرف دعا کرتا رہے کہ بارش ہو جاوے اور اناج تیار ملے تو اس کی دعا کس کام آوے گی؟دعا اس وقت فائدہ دے گی جب وہ کلبہ رانی کرکے زمین کو تیار رکھیگا۔ عُجُب اور رِیا عُجُب اور رِیا بہت مہلک چیزیں ہیں ان سے انسان کو بچنا چاہیئے انسان ایک عمل کرکے لوگوں کی مدح کا خواہاں ہوتا ہے۔بظاہر وہ عمل عبادت وغیرہ کی صورت میں ہوتا ہے جس سے خدا تعالیٰ راضی ہو مگر نفس کے اندر ایک خواہش پہناں ہوتی ہے کہ فلاں فلاں لوگ مجھے اچھا کہیں اس کانام ریا ہے اور عُجُب یہ کہ انسان اپنے عمل سے اپنے آپ کو اچھا جانے کہ نفس خوش ہو ان سے بچنے کی تدبیر کرنی چاہیئںکہ اعمال کا اجر ان سے باطل ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر ڈاکٹر محمد اسمٰعیل خان صاحب نے عرض کی کہ حضور شیطان سے فریب کی کوئی مثال بیان فرمائی جاوے۔چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ نے اسی ذکر میں مثال یوں بیان فرمائی کہ ایک مولوی ایک جگہ وعظ کررہے تھے انہوں نے ایک دینی خدمت کے واسطے کئی ہزار روپیہ چندہ جمع کرنا تھا۔ان کے وعظ اور ضرورت دینی کو دیکھ کر ایک شخص اُٹھا اور دو ہزار روپیہ کی ایک تھیلی لا کرمولوی صاحب کے سامنے رکھدی۔مولوی صاحب نے اسی وقت مجلس میں اس کے سامنے اس کی تعریف کی کہ دیکھو یہ بڑا نیک بخت انسان ہے اس نے ابھی اپنا گھر جنت میں بنا لیا اور یہ ایسا ہے ویسا ہے۔جب اس نے اپنی تعریف سنی تو اسی وقت گھر گیا اور جھٹ واپس آکر بآواز بلند اس نے کہا کہ مولوی صاحب اس روپے کے دینے میں مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔اصل میں یہ مال میری والدہ کا ہے اور مَیں اس کی بے اجازت لے آیا تھا،لیکن اب وہ مطالبہ کرتی ہے۔مولوی صاحب نے کہا اچھا لے جائو۔چنانچہ وہ شخص اسی وقت روپیہ اُٹھا کر لے گیا۔یا تو لوگ اس کی تعریف کرتے تھے اور یا اسی وقت اس کی مذمت شروع کردی کہ بڑا بیوقوف ہے۔روپیہ لانے سے اوّل کیوں نہ ماں سے دریافت کیا۔کسی نے کہا جھوٹا ہے۔روپیہ دے کر افسوس ہوا تو اب یہ بہانہ بنالیا وغیرہ اوغیرہ