بچوں ،مال وجاہ کی پر واہ نہ کرنا اور یہاں سے جاکر اُن میں سے کسی سے نہ ملنا ایسی استقامت ہے کہ سن کر لرزہ آتا ہے ۔دنیا میں بھی اگر ایک نوکر خدمت کرے اور حقِ وفا کا ادا کرے تو جو محبت اس سے ہو گی وہ دوسرے سے کیا ہو سکتی ہے جو صرف اس بات پر ناز کر تا ہے کہ میَں نے کوئی اچک پنا نہیں کیا حالانکہ اگر کرتا تو سزا پاتا ۔اتنی بات سے حقوق قائم نہیں ہو سکتے ۔حقوق تو صرف صد ق و وفا سے قائم ہو سکتے ہیں جیسے
ابراھیم الذی وفی (سورۃ النجم۳۸)
(البدر جلد ۳نمبر۸صفحہ ۲مورخہ۲۴؍فروری۱۹۰۴ء )
۱۱ فروری ۱۹۰۴ء
بوقتِ شام
حضرت سیّد احمد سرہندی علیہ الرحمۃ کا تذکرہ
فرمایا:
سیّد احمد سرہندی کاایک خط ہے جس میں انہوں نے بتلایا ہے کہ اس قدر احمد مجھ سے پیشتر گزر چکے ہیں اور ایک آخری احمد ہے
پھر آپ نے اس کی ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے اور خود اس کے زمانہ سے پیشتر ہونے پر افسوس کیا ہے اور لکھا ہے
یا اسفا علی لقائہ
پھر فرمایا کہ
ان کا ایک قول میرے نزدیک درست نہیں ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ کرا مات اس وقت صادر ہو تی ہیں جب کہ سالک الیٰ اللہ کا صعود تو اچھا ہو مگر نزول اچھا نہ ہو اور اگر نزول بھی اچھا ہو تو پھر کرامات صادر نہیں ہوتیں ۔گویا کرامات کے ڈدور کا وہ ادنیٰ درجہ قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ غلط ہے جس قدر انبیاء آئے ہیں اُن سے بارش کی طرح کرامات صادر ہو تی رہی ہیں ۔اُن کے اس قول سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ اپنی پردہ پوشی کرتے ہیں اور خود ان کو اس کوچہ میں دخل نہیں تھا ۔
فتوح الغیب کو اگر دیکھاجاوے تو سیدھے سادے رنگ میں سلوک اور توحید کی راہ بتلاتی ہے ۔شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ قائل ہیں کہ جو شخص ایک خاص تعلق اور پیوند خداتعالیٰ سے کرتا ہے اس سے ضرور مکالمہ الہیٰ ہو تا ہے ۔یہ کتاب ایک اور رنگ میں ان کے اپنے سوانح معلوم ہو تے ہیں جیسے جیسے خدا تعالیٰ کا فضل ان پر ہو تا رہا اور وہ ترقی مراتب کرتے رہے ویسے ویسے بیان کرتے رہے ۔