ایسا معلوم ہو تا ہے کہ جان کندن کی سی حالت ہے۔چنانچہ اس شدت کھانسی میں مجھے اللہ تعالیٰ کی غناء ذاتی کا خیال گذرا اور میَں سمجھتا تھا کہ اب گویا موت کا وقت قریب ہے۔اس وقت الہام ہوا۔ اذاجا ء نصر اللہ والفتح ورایت الناس ید خلون فی دین اللہ افواجا(سورۃالنصر:۲،۳) اس کے یہ معنے سمجھائے گئے کہ ایساخیال اس وقت غلط ہے بلکہ اس وقت جب اذاجا ء نصر اللہ والفتح کا نظارہ دیکھ لو ۔اس وقت تو کوچ ضروری ہو جاتا ہے ۔سب کے لیے یہی اصول ہے کہ جب وہ کام جس کے لیے اس کو بھیجا جاتا ہے ختم ہو جاتا ہے تو پھر وہ رُخصت ہو تا ہے ہر کسے رابہر کارے ساختند تو سچ ہے مگر سب آدمیاپنے اپنے کام اور غرض سے جس کے لیے وہ آئے ہیں واقف نہیں ہوتے ۔بعض کا اتنا ہی کام ہو تا ہے کہ چوپایوں کی طرح کھا پی لینا وہ سمجھتے ہیں کہ اتنا گوشت کھانا ہے۔اس قدر کپڑا پہننا ہے وغیرہ اور کسی بات کی ان کو پرواہ اور فکر نہیں ہوتی۔ایسے آدمی جب پکڑے جاتے ہیں تو پھر یک دفعہ ہی اُنکا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔لیکن جو لوگ خدمتِ دین میں مصروف ہوں اُن کے ساتھ نرمی کی جاتی ہے ۔اس وقت تک جب تک وہ اس کام اور خدمت کو پورا نہ کر لیں ۔ انسان اگر چاہتا ہے کہ اپنی عمر بڑھائے تو اُس کو چاہیئے کہ جہانتک ہو سکے خالص دین کے واسطے اپنی عمر کو وقف کرے ۔یہ یاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ سے دھوکا نہیں چلتا جو اللہ تعالیٰ کو دغا دیتا ہے وہ یا رکھے کہ اہنے نفس کو دھوکا دیتا ہے وہ اس کی پاداش میں ہلاک ہو جاوے گا۔ پس عمر بڑھانے کا اس سے بہتر نسخہ نہیں ہے کہ انسان خلوص اور وفاداری کیساتھ اعلاء کلمۃ الاسلام میں مصروف ہو جاوے اور خدمتِ دین میں لگ جاوے اور آج کل یہ نسخہ بہت ہی کار گر ہے کیونکہ دین کو آج ایسے مخلص خادموں کی ضرورت ہے ۔اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر عمر کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے یونہی چلی جاتی ہے ۔ ایک صحابی کا ذکر ہے کہ اس کے ایک تیر لگا اور اس سے خون جاری ہو گیا ۔اس نے دُعا کی کہ اے اللہ عمر کی تو مجھے کوئی غرض نہین ہے ۔البتہ میَں یہود کا انتقام دیکھنا چاہتا تھا جنہوں نے اس قدر اذیتیں اور تکلیفیں دی ہیں ۔لکھا ہے کہ اسی وقت اس کا خون بند ہو گیا جب تک کہ وہ یہود ہلاک نہ ہوئے اور جب وہ ہلاک ہو گئے تو خون جاری ہو گیا اور اس کا انتقال ہوگیا ۔ ۱؎