جو تجھے چھوڑدے جب تک پاک اور پلید میں فرق کرکے نہ دکھا وے۔یہ الہام بڑا ہی مبشر ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ عظیم الشان فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔ کسر صلیب کیلئے دعا کی اہمیت اگرچہ یہ سچی بات ہے کہ جب سے عیسائیوں کا قدم آیا ہے مسلمانوں نے اپنی طرف سے کمی نہیں کی اور کسی نہ کسی حد تک ان کا مقابلہ کرتے رہے ہیں اور کتابیں اور رسالے لکھتے رہے ہیں لیکن باوجود اس کے بھی ان کی جماعت بڑھتی ہی گئی یہانتک کہ اب شاید تیس لاکھ کے قریب مرتد ہو چکے ہیں اس لیے مَیں یقیناسمجھتا ہوں کہ کسر صلیب جانکاہ دعائوں پر موقوف ہے۔دعا میں ایسی قوت ہے کہ جیسے آسمان صاف ہو اور لوگ تضرّع وابتہال کے ساتھ دعا کریں تو آسمان پر بدلیاں سی نمودار ہوجاتی ہیں اوربارش ہونے لگتی ہے۔اسی طرح پر مَیں خوب جانتا ہوں کہ دعا اس باطل کو ہلاک کردے گی اور لوگوں کو تو کوئی غرض نہیں ہے ۱؎کہ وہ دین کے لیے دعا کریں مگر میرے نزدیک بڑا چارہ دعا ہی ہے اور یہ بڑا خطرناک جنگ ہے جس میں جان جانے کا بھی خطرہ ہے ؎ لنعم ما قیل ۔ اندریں وقت مصیبت چارہ ہائے بیکساں جز دعائے با مد ا د و گر یہ ا سحا ر نیست پھر ان دعائوں کے لیے گوشہ نشینی کی بڑی ضرورت ہے۔کئی دفعہ یہ بھی خیال آیا ہے کہ باغ میں کوئی الگ مکان دعائوں کے واسطے بنالیں۔ غرض یہ تو مَیں نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ محض قلم سے کچھ نہیں بنتا۔ ۲؎ اغراضِ نفسانی نے انسان کو دبایا ہوا ہے بہت سے لوگ نوکری کی غرض سے عیسائی ہورہے ہیں اور بعض اور نفسانی غرض کی وجہ سے اور بعض لوگ گورنمنٹ کے تعلقات کی وجہ سے۔ آسائش کی حقیقی راہ اس طریق پر سچی راحت اور آسائش نہیں مل سکتی۔مومن کو حقیقی راحت اور آسائش کے لیے رُوبخدا ہونا چاہیئے۔جو مومن آسائش کی زندگی