ہو گی اور انبیاء علیہم السلام کا یہی طرز رہا ہے کہ جب دلا ئل اور حجج کا م نہیں دیتے تو ان کا آخری حربہ دعا ہو تی ہے جیسا کہ فر مایا واستفتحواوخاب کل جبارعنید۔(سورۃ ابراہیم:۱۶) یعنی جب ایسا وقت آجاتا ہے کہ انبیا ء ورسل کی بات لوگ نہیں مانتے تو پھر دعا کی طرف تو جہ کرتے ہیں اور اس کا نیتجہ یہ ہو تا ہے کہ ان کے مخالفت متکبر وسرکش آخر نا مراد اور نا کام ہو جاتے ہیں ۔ ایسا ہی مسیح موعود کے متعلق جو یہ آیا ہے ونفخفی الصوروجمعنا ھم جمعا(سواۃالکھف:۱۰۰) اس سے بھی مسیح موعود کی دعاؤںکی طرف اشارہ پا یا جا تا ہے نزول ازآسمان کے یہی معنے ہیں کہ جب کوئی امرآسمان سے پیدا ہوتا ہے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیںکرسکتا اور اسے ردّ نہیں کر سکتا آخری زمانہ میں شیطان کی ذریّت بہت جمع ہو جا ئے گی کیو نکہ وہ شیطان کا آخری جنگ ہے مگر مسیح موعود کی دعائیں اس کو ہلاک کر دیں گی ۔ نُوح کے زمانہ سے مناسبت اسی طرح نوح علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا جب حضرت نوح تبلیغ کرتے کرتے تھک گئے تو آخر انہوں نے دعا کی تو نیتجہ یہ ہوا کہ ایک طوفان آیا جس نے شریروں کو ہلاک کر دیا اور اس طرح پر فیصلہ ہو گیا آخر ان کی کشتی ایک پہاڑ پر جاٹھہری جس کو اب اراراٹ کہتے ہیں اراراٹ کی اصل یہ ہے اَرَارات یعنی میں پہاڑ کی چوٹی کو دیکھتا ہوں ۱ ؎