کو جسمانی بنالیا ہے۔ادھر یہ مان لیا ہے کہ دوزرد چادریں پہنے ہوئے اُترے گا۔ ۱؎ معلوم نہیں ان بھگوے کپڑوں کے پہننے سے اس کی کیا غرض ہوگی۔یہ چادریں شاید حضرت ادریس نے سی کردی ہوں گی۔پھر تعجب ہے کہ وہ کبھی مَیلی نہ ہوں گی اور نہ وہ کبھی اُن کو اُتاریں گے اور نہ وپھٹیںگی۔یہ کیسی عجیب باتیں ہیں جن کو سنکر ہنسی آتی ہے ادھر یہ لباس تجویز کیا اور خدمت یہ تجویز کی کہ وہ جنگلوں میں خنزیر مارتا پھرے ۔ ۱؎ پردہ میں افراط وتفریط سے بچنے کی تلقین حضرت اُم المومنین کی طبعت کسی قدر ناساز رہا کرتی تھی۔آپ نے ڈاکٹر صاحب سے مشورہ فرمایا کہ اگر وہ ذرا باغ میں چلی جایا کریں تو کچھ حرج تو نہیں۔انہوں نے کہا کہ نہیں۔اس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایاکہ دراصل مَیں تو اس لحاظ سے کہ معصیت ۳؎ نہ ہو کبھی کبھی گھر کے آدمیوں کو اس لحاظ سے کہ شرعاً جائز ہے اور