ص 554
۵۔۶ فروری ۱۹۰۴ء
۵ تاریخ کو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ ولسلام سیر کو تشریف لے گئے لیکن میں اس سیر میں ایک مغالطہ کی وجہ سے شریک نہ ہو سکا۔(ڈائری نویس)
۶ تاریخ کو عصر کے وقت آپ نے مجلس فر مائی ۔مختلف تذکرے ہوتے رہے ۔سر سید کا ذآگیا فر مایا:
مداہنت
دوسری قوم کے رعب میں آ کر اور ان کی ہا ں میں ہاں ،لاتے ہوئے آخر یہاں تک نوبت پہنچی کہ آپ آخر ایام میں تثلیث کے ماننے والوں کو بھی نجات یافتہ قراردے گئے مداہنہ کی انتہا یہی ہوا کرتی ہے کہ آ خر اسی قوم کا انسان کو بنناپڑتا ہے ۔قرآن شریف میں اسی لیے ہے
لن تر ضی عنک الیھو د ولا النصاری حتی تتبع ملتھم (سورۃ البقرۃ :۱۲۱)
دوسرے کو راضی کرنے کے لیے انسان کو اس کے مذہب کو بھی اچھا کہنا پڑتا ہے اسی لیے مداہنہ سے مومن کو پر ہیز کرنا چاہیئے۔
فر مایا کہ :۔
مخالفین کا رویہ
مجھے بھی یہ الہام ہو ا ہے جیسے کہ براہین میں درج ہے اور میَں دیکھتا ہوں کہ اس وقت ان لوگوں (یعنی مخالفوں )میں سے شاذ ونادر ہی ہو گا جو ہم سے راضی ہو اور ہمارے ساتھ اخلاق سے پیش آنا چاہتا ہو ۔ہا ں اگر شخصی طورپر کسی کی ذات میں اخلاق سرشت ہو اہو تو وہ شاید ہم سے اخلاق سے پیش آوے ورنہ قومی طور پر ہم سے ہر گز اخلاق سے پیش آنا نہیں چاہتے۔
اجتہاد میں غلطی ہو جانا نبوت کے خلاف نہیں
کسی صاحب نے لودھیانہ سے حضرت صاحب کو مخالفین کا یہ اعتراض لکھا کہ
شاتا ن تذبحان
کا الہام جو اب شہزادہ عبد الطیف صاحب شہید کے بارے میں لکھا گیا ہے وہ قبل ازیںکسی تصنیف میں مرزا احمد بیگ اور اس کے داماد پر چسپاں ہو چکا ہے ۔ اس پر آپ نے فر مایا کہ
اگر ہم سے اجتہاد میں غلطی ہو جاوے توحرج کیا ہے؟اجتہاد اور شئے ہے اور تفہیم الہیٰ اور شئے۔اگر ہم نے ایک معنی اپنی رائے اور فکر سے کر دئییتو آخر اپنے وقت پر خداتعالیٰ نے اصل اور حقیقی معنے بتلادیئے۔اس الہام میں یہ الفاظ بھی لکھے ہیں
عسی ان تحبو اشیئا و ھو شر لکم
اب دیکھنا چاہیئے کہ کیا احمد بیگ جیسے منکرین کی زندگی ہماری محبوبات سے تھی یا مکروہات سے؟ اگر ہماری کوئی غلطی ہو تو اس میں تنقیح طلب امر یہ ہے کہ آیا ایسی غلطیاں انبیاء سے ہو تی رہیں کہ نہیں جیسے کہ خواب میں ابو جہل نے آنحضرت ﷺ کو انگور کا
صفحہ 555
خوشہ دیا تو آپ نے اس کے معنے سمجھے کہ ابو جہل کسی وقت مسلمان ہو جاوے گا لیکن وہ تو مسلمان نہ ہو ا ۔آخر عکرمہ اس کا بیٹا جب مسلمان ہوا تو خوان کے معنے پورے طور پر سمجھ میں آئے۔
سلسلہ کی صداقت
ایک مفتری کی زندگی حباب کی طرح ہو تی ہے لیکن ہمارے سلسلہ میں سچائی کی خوشبو ہے کہ نہ واعظ ہیں (نہ کانفرنسیں جو مختلف مقامات پر ہوتی ہیں) نہ لیکچرار ہیں ۔لیکن ہماری صداقت خود بخود لوگوںکے دلوں میں پڑتی جاتی ہے ۔ان لوگوں نے بہتیرا واویلا کیا اور روکتے رہے اور اب بھی کرتے اور روکتے ہیں لیکن پھر بھی ہنارا کچھ نگاڑ نہ سکے۔
اب باریک نظر سے غور سے دیکھو تو ہمارا سلسلہ دن بہ دن ترقی کر رہا ہے اور یہی نشانی ہے اس بات کی کہ یہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہے ۔اگر یہ نہ ہوتا تو ہمارے مخالف آج تک کب کے کامیاب ہو جاتے۔ہم یہاں چپ چاپ بیٹھے ہیں کسی تدبیر اور ایسیطاقت سے کام نہیں لیتے کہ اثر انداز ہو ۔نہ دورے لگا رہے نہ کچھ ۔مگر تا ہم ایک حرکت شروع ہے ۔روز جو ڈاک آتی ہے شاذونادر ہی کوئی دن ایساہو تو ہو ورنہ ہر روز بلاناغہ بیعت کے خطوط آتے ہیں اور کوئی دن ایسا نہیں چڑھتا کہ اس میں کوئی نہ کوئی بیعت کے لیے تیاری نہ کرتا ہو ۔
تین قسم کے لوگ
فرمایا کہ
اس وقت تین قسم کے لوگ ہیں :۔
ایک وہ جو بغض وحسد میں جلے ہوئے ہیں اور ضد اور تعصب سے مخالفت پر آمادہ ہیں ۔ان کی تعداد تو بہت ہی کم ہے ۔
دوسرے وہ جو اس طرف رجوع کرتے ہیں ان کی تعداد تو ترقی پر ہے۔
تیسرے وہ جو خاموش ہیں نہ اِدگر ہیں نہ اُدھر ۔ان کی تعداد کثیر ہے وہ ملّانوں کے زیر اثر نہیں ہیں اور نہ ان کے ساتھ مل کر سبّ وشتم کرتے ہیں ۔اس لیے وہ ہماری مدّمیں ہیں ۔
فرقہ معاندین کی افادیت
یہ فرقہ جومعاندین کا ہے اگر نہ ہوتا تو چپ رہنے والے اصل میں کوئی شئے نہیں ہیں انہیں کی وجہ سے تحریک ہو تی ہے وہ شور ڈال ڈال کر ان لوگوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرتے ہیں ۔ان کی باتوں میں چونکہ آسمانی تائید نہیں ہو تی اس لیے اس لیے تناقص ہوتا ہے ۔خداتعالیٰ کچھ فرماتا ہے اور یہ کچھ کہتے ہیں ۔قال کچھ ہے اور حال کچھ ہے ۔آخر شور شہ ابا سُنکر بعض کو تحریک ہوتی ہے کہ دیکھیں تو سہی ہے کیا ۔پھر جب وہ تحقیق کرتے ہیں تو حق ہماری طرف ہوتا