خدا تعالیٰ کی بے نیازی پر ایمان
فرمایا کہ
عمر کی نسبت اگر چہ مجھے الہام بھی ہوا ہے اور خوابیں بھی آئی ہیں مگر جب اللہ تعالیٰ کی بے نیازی پر نظر پڑتی ہے تو مجھے اپنی عمر کا کوئی اعتبار نہیں ہو تا کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے ۔ پھر جیسے لوگوں پر تعجب آتا ہے کہ ان کو عمر کا کوئی وعدہ بھی نہیں ملا ہو ا مگر پھر بھی وہ ایسے عمل کرتے ہیں جیسے کہ مطلق موت آنی ہی نہیں ۔سعادت یہ ہے کہ موت کو قریب جانے تو سب کام خود بخود درست ہو جاویں گے۔
آنحضرت ﷺ نے قیامت کے بہت سے آثار بتلائے مگر تاہم اگر ذرا سخت اندھی چلتی یا بارش ہو تی تو آپ گھبرا جاتے اور خیال کرتے کہ کیا قیامت تو نہیں آئی ۔اس وقت آپ کی نظر خداتعالیٰ کی بے نیازی پر ہو تی ۔جنگِ بدر میں فتح کا وعدہ تھا مگر تا ہم رو رو کر دُعائیں کرتے ۔آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ فتح کا وعدہ تو ہے مگر شاید کوئی شرط اس میں پنہاں ہو جس کا مجھے علم نہیں تو پھر فتح نہ ہو ۔موسیٰ علیہ السلام کیساتھ کیا کیا وعدے تھے مگرآخر قوم کی قوم جنگلوں میں مَر کھپ گئی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ الہیٰ وعدے جن شرائط کے ساتھ مشروط تھے ان کے بر عکس قوم نے کاروائی کی۔
جماعت کی شامت ِاعمال کا اثر مامور پر پڑتاہے ۔جنگِ اُحد میں ایک طائفہ نے آنحضرت ﷺ کا کہا نہ مانا تو آپ کو کس قدر تکلیف ہوئی۔زخم آپ کو لگے ۔دانت شہید ہو ا۔خَود اس قدر سر میں دھنس گئی کہ صحابہؓ زور لگا کر اسے نکالتے نہ نکلتی ۔اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کے آگے کسی کی کیا پیش چل سکتی ہے
(البدر جلد ۳نمبر۷صفحہ ۲،۳مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ء )
(الحکم جلد ۸نمبر۶صفحہ۲،۳مورخہ۱۷؍فروری۱۹۰۴ء )
۲ تا ۴ فر وری ۱۹۰۴ء
حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃو السلام کی طبیعت علیل رہی اور بایں وجہ سیر بھی ملتوی رہی بردِاطراف چکر وٖیرہ کے دماغی امراض جو آپ کو مصلحتِالہیٰ سے لاحق ہیں ۔اُن کے دورے رہے۔ مختلفاوقات میں آپ شریک نماز باجماعت ہوتے رہے اور جو اذکار ان اوقات میں ضبط ہوئے وہ ہدیہ ناظرین ہیں ۔