ہو ہے اور عظمتِ الہیٰ کو دلوں سے اُٹھا دیا ہے ۔اب صرف وعظوں کا کام نہیں ہے کہ اس کا علاج کر سکیں ۔عذابِ الہیٰ کی ضرورت ہے بابو شاہدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور عذاب سے بھی لوگ عبرت نہیں پکڑتے کہتے ہیں کہ ہمیشہ بیماریاں وغیرہ ہو ہی کرتی ہیں ۔فر مایا :۔ قرآنِشریف میں طوفانِ نوح کا ذکر ہے ۔بجلی کا ذکرہے اور یہ سب حادثات دُنیا میں ہمیشہ ہو تے رہتے ہیں۔کیا اُن کے نزدیک یہ عذابِ الہیٰ نہ تھے ؟جن کا ذکر خدا تعالیٰ نے کیا ہے اور ان سب کا ہمیشہ دنیا میں وجود رہتا ہے مگر جب کثرت ہو اور ہولناک صورت سے ظاہر ہوں اور دنیا میں تہلکہ پڑ جاوے تب یہ نشان ہیں ۔وحی بھی اسی طرح ہمیشہ سے ہے ۔ہمیشہ لوگوں کو سچے خواب آتے ہیں تو پھر انبیاء کی خصوصیت کیا ہوئی ۔خصوصیت ہمیشہ کثرت اور درجہ کمال سے ہو تی ہے ۔اب اس وقت جو ہلاکت مختلف طور سے ہو رہی ہے اس کی نظیر یہ دکھلاویں۔ گذشتہ دنوں عالیجناب احسان علی خانصاحب برادر نواب محمد علی خا نصاحب مالیر کوٹلہ سے تشریف لائے تھے ۔انہوں نے حضرت اقدس سے نیاز بھی حاصل کیا تھا اور آپ نے ایک جامع تقریر بھی اس وقت فر مائی تھی جس سے ان کے اکثر شبہات وشکوک کا قلع قمع ہو تھا ۔انہیں کا ذکر ہو تا رہا کسی کی طرف سے یہ اعتراض بھی پیدا ہوا کہ ان کے ایک مصاحب نے یہ کہا ہے کہ ابھی مہدی و مسیح کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ لوگ نمازیں پڑھتے ہیں ۔ اس پر آپ نے فر مایا کہ : عام طور پر دہریت دلوں میں گھر کر گئی ہے ۔لاکھوں مسلمان عیسائی ہو گئے ہیں ۔صلیبی فتنہ بڑھ رہا ہے ۔اگر اب بھی ضرورت نہیں ۔تو کیا یہ چاہیئے ہیں کہ اسلام کا نام ونشاننہ رہے اس کی تو وہی مثال ہے کہ ایک میّت موجود ہو اس میں روُح کا نام ونشان نہ ہو اور صرف اس کی آنکھ ،کان ،ناک وغیرہ اعضاء دیکھ کرکہا جائے کہ یہ میّت نہیں ہے ۔اگر نہیں ہیتو اور چار دن رکھ کر دیکھ لو۔جب سڑے گا اور بد بو پھیلے گی تو خود پتہ لگ جائے گا کہ روُح کا نام ونشان نہیں صرف پوست ہی پوست ہے ۔ابھی کہتے ہیں کہ ضرورت نہیں اہلِ تشیع کو جو محبت حضرت امام حسین سے ہے اور آپ کے واقعہ شہادت کو سُنکر جس طرح ان کے جگر پارہ پارہ ہو تے ہیں اس میں سے تکلّف اور تصنع کو دور کرکیباقی ان لوگوں کے حق میں جو دلی خلوص سے امام صاحب سے محبت رکھتے ہیں اور ان کی شان میںہو ایک غلو کو معیوب قرار دیتے ہیں ۔فر مایا کی اس سے ہم منع نہیں کرتے کہ کوئی کسی بزرگ کی محبت یا جدائی میں آنسوئوں سے رولے۔