مبعوث ہوئے تھے تو یہود بھی تو عبادتیں کرتے تھے پھر وہ کیوں مغضوب ہوئے؟ ان کی نہایت بد قسمتی اور شقاوت ہے کہ بھلا دیا ہے کہ اسلام کیا ہے۔کب کہا جاتا ہے کہ فلاں متقی ہے،فلاں مومن ہے۔صرف چھلکے اور پوست پر نازاں ہیں اور مغز کو ہاتھ سے کھودیا ہے جو کہ دین کی اصل روح ہے۔اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ روح دوبارہ پیدا کرے۔اگر ان لوگوں میں تقویٰ اور معرفت ہو تو یہ اعتراض کرکے خود ہی نادم ہوں۔ سوادِاعظم کی حقیقت ایک اعتراض کرتے ہیں کہ سوادِاعظم حیاتِ مسیح کا قائل ہے۔اگر سوادِاعظم کے یہ معنے ہیںکہ ایک گروہ کثیر ایک طرف ہو تو اس کی بات سچی ہوتی ہے تو آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت یہودوعیسائی وقم کا بھی سوادِاعظم تھا۔وہ اہل کتاب ہی تھے۔بڑے بڑے عالم۔فاضل۔عابد ان میں موجود تھے۔ان کے معیار سے تو آنحضرت ﷺ کے حق میں ان کی شہادت معتبر مان لینی چاہیئے۔ اصل سوادِاعظم وہ لوگ ہیں جو حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں اورعلیٰ وجہ البصیرت خدا تعالیٰ پر ان کا ایمان ہے اور ان کی شہادت معتبر ہوتی ہے۔بھلا سوچ کر دیکھو کہ جس راہ میں بچھُّو۔سانپ اور درندے وغیرہ ہوں۔کیا دس ہزار اندھے اس کی نسبت کہیں کہ یہ راہ اختیار کرو توکوئی ان کی بات مانے گا؟اور جو ان کے پیچھے چلیں گے وہ سب مریں گے۔رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ مَیں علیٰ وجہ البصیرت بلاتا ہوں اگر چہ آپ ایک فردواحد تھے لیکن آپ کے مقابل ہزارہا منکرین کی بات قابلِ اعتبار نہ تھی جو آپ کی مخالفت کرتے تھے۔ ان اس وقت ایک سوادِاعظم نہیں ہے بلکہ کئی سوادِاعظم ہیں۔افیونیوں،بھنگیوں،چرسیوں،شرابیوں وغیرہ کا بھی ایک سوادِاعظم ہے۔مخلوق پرستوں کا بھی ایک سوادِاعظم ہے توکیاان لوگوں کے اقوال کو سند پکڑا جاوے خداتعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ قلیل من عبادی ا لشکور(سورۃسبا:۱۴) کہ شاکر اور سمجھدار بندے ہمیشہ کم ہوتے ہیں جو کہ حقیقی طور پر قرآن مجید پر چلنے والے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ان کو اپنی محبت اور تقویٰ عطا کیا ہے وہ خواہ قلیل ہوں مگر اصل میںوہی سوادِاعظم ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو امۃ کہا ہے۔حالانکہ وہ ایک فرد واحد تھے مگر سوادِاعظم کے حکم میں تھے۔ یہ کھبی نہیں ہوسکتا شرارتوں،منصوبوں اور حیلہ بازیوں میں رہتے ہیں۔ان کا عمل ایک بالشت بھی آسمان پر جا سکے اور وہ ان نیک بندوں کے برابر ہوں،جن کی عظمت خدا تعالیٰ کی نظر میں ہے۔عند اللطیف کی ہی ایک نظیر دیکھ لو کہ بار بار موقعہ ملا کہ جان بچاوے مگر اس نے یہی کہا کہ مَیں نے حق کو پالیا اس کے آگے جان کیا شئے ہے۔سوچ کر دیکھو کہ کیا جھوٹ کے واسطے دیدہ دانستہ کوئی جان جیسی عزیز شئے دے سکتا ہے۔