شہادت دی ہے کہ اور میرا نام لے کر بتایا ہے۔اسی طرح پر ایک اہل اللہ بزرگ گلاب شاہ مجذوب تھے جنہوں نے ایک شخص کریم بخش ساکن جمالپور ضلع لودھیانہ سے میرا نام لے کر پیشگوئی کی ہے اور اس نے کہا کہ وہ قادیان میں ہے کریم بخش کو قادیان کا شبہ پڑا کہ شاید لودھیانہ کے قریب کی قادیان میں ہوں۔مگر آخر اس نے بتایا کہ یہ قادیان نہیں اور اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ لودگیانہ میں آئے گا اور مولوی اس کی مخلفت کریں گے۔چنانچہ اس کا یہ سارا بیان چھپ چکا ہے اور کل گائوں کریم بخش کی راستبازی اور نیکو کاری کی شہادت دیتاتھا اور جس وقت وہ بیان کرتا تھا تو رو پڑتا تھا۔اس گلاب شاہ سے یہ بھی کہا کہ عیسیٰؑ تو آسمان سے آئیگا اس نے جواب دیا کہ جو آسمان پر چلا جاتا ہے وہ پھر واپس نہیں آیا کرتا۔
اس پیشگوئی کے موافق کریم بخش میری جماعت میں داخل ہوا۔بہت سے لوگوں نے اس کو روکا اور منع بھی کیامگر اس نے کہا کہ مَیں کیا کروں یہ پیشگوئی پوری ہوگئی ہے مَیں اس شہادت کو کیونکر چھپائوں۔غرض اس طرح پر بہت سے اکابر ِامّت گذرے ہیں جنہوں نے میرے لیے پیشگوئی کی اور پتہ بتایا۔بعض نے تاریخِ پیدائش بھی بتائی جو چراغ دین ۱۲۶۸ہے
اوراس کے علاوہ وہ نشان جورسول اللہ ﷺ نے بتائے تھے وہ بھی پورے ہوگئے۔منجلہ انکے ایک کسوف وخسوف کا نشان تھا۔جب تک کہ یہ کسوف وخسوف کا نشان نہیں ہوا تھا یہ مولوی جو اَب میری مخالفت کی وجہ سے رسولﷺ کی بھی تکذیب کررہے ہیں اس کی سچائی کے قائل تھے اور یہ نشان بتاتے تھے کہ مسیح ومہدی کا یہ نشان ہوگا کہ رمضان کے مہینہ میں سورج اور چاند کو گرہین ہوگا۔لیکن جب یہ نشان میرے دعویٰ کی صداقت کی شہادت کے لیے پُورا ہو گیا تو پھر جس منہ سے اقرار کیا کرتے تھے اسی منہ سے انکار کرنے والے ٹھہرے۔کسی نے تو سرے سے اس حدیث ہی کا انکار کردیا اور کسی نے اپنی کم سمجھی اور نادانی سے یہ کہدیا کہ چاند کی پہلی تاریخ کو گرہین ہونا چاہیئے حالانکہ پہلی رات کا چاند تو خود گرہین ہی ہوتا ہے اور علاوہ بریں حدیث میں تو قمر کا لفظ ہے جو پہلی رات کے چاند پر بولا ہی نہیں جاتا۔
غرض اس طرح پر جس قدر نشان تھے وہ پورے ہوگئے مگر یہ لوگ ہیں کہ محض میری مخالفت کی وجہ سے خدا تعالیٰ اور اس کے سشے اور پاک رسول آنحضرت ﷺ کا بھی انکار کررہے ہیں اور آپ کی تکذیب کی بھی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔ان نشانوں اور علامات کے بعد پھر یہ بات بھی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے کہ کیا مدعی کے اپنے ہاتھ پر کوئی نشان اس کی تصدیق کے لیے ظاہر ہوا ہے یا نہیں؟اس کے لیے مَیں کہتا ہوں کہ اس قدر نشان اللہ تعالیٰ نے ظاہر کئے ہیں کہ ان کی تعداد ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں