انسان کو چاہیئے کہ شپّر کی طرح نہ ہو ۔عجب روشنی اس وقت پھیل رہی ہے ۔اس سے منہ موڑنا خوب نہیں ہر شخص جو ارتراض اور نکتہ چییناںرکھتا ہے اس کو چاہیئے کہ اس دروازہ پر بیٹھ کر اپنے شکوک کو رفع کرے لیکن جو یہاں تو بیٹھتا نہیں اور دریافت نہیں کرتا اور گھر جا کر نکتہ چییناں کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی تلوار کے سامنے آتا ہے جس سے وہ بچ نہیں سکتا ۔ دیکھو افتراء کی بھی ایک حد ہو تی ہے اور مفتری ہمیشہ خائب اور خاسر رہتا ہے ۔ قد خاب من افتری (طہ:۶۲) اور آنحضرت ﷺ کو فرمایا کہ اگر تو افتراء کرے توتیری رگِ جان ہم کاٹ ڈالیں گے اور ایساہی فرمایا من اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا(الانعام:۲۲) ایک شخص ان باتوں پر ایمان رکھ کر افتراء کی جرات کیونکر کر سکتا ہے ۔ظاہری گورنمنٹ میں ایک شخص اگرفر ضی چپڑاسی بن جائے تو اس کو سزادی جاتی ہے اور وہ جیل میں بھیجا جاتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ ہی کی مقتدر حکومت میں یہ اندھیرا ہے ؟کہ کوئی محض جھوٹادعویٰ مامورمن اللہ ہونے کا کرے اور پکڑانہ جائے بلکہ اس کی تائید کی جائے ۔ اس طرح تو دہریت پھیلتی ہے ۔خدا تعالیٰ کی ساری کتابوں میں لکھا ہے کہ مفتری ہلاک کیاجاتاہے ۔ پھر کون نہیں جانتا کہ یہ سلسہ ۲۵ سال سے قائم ہے اور لاکھوں آدمی اس میں داخل ہو رہے ہیں یہ باتیں معمولی نہیں بلکہ غور کرنے کے قابل ہیں ۔محض ذاتی خیالات بطور دلیل مانے نہیں جاسکتے ۔ایک ہندو جو گنگا میں غوطہ مار کر نکلتا ہے اور کہتا ہے کہ میں پاک ہو گیا ۔بلا دلیل اس کو کون مانے گا ؟بلکہ اس سے دلیل مانگے گا ۔پس میَں نہیں کہتا کہ بلا دلیل میرا دعویٰ مان لو ۔نہیں منہاجِ نبوت کے لیے جو میعار ہے اس پر میرے دعوی ٰ کو دیکھو ۔میَں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میَں خدا تعالیٰ سے وحی پاتا ہوں اور منہاجِ نبوت کے تینوں معیار میرے ساتھ ہیں اور میرے انکار کے لیے کوئی دلیل نہیں ۔ ۱۳ جنوری۱۹۰۴؁ء صبح کے وقت منشی اروڑاصاحب نقشہ نویس ریاست کپورتھلہ نے حضرت اقدس سے نیاز حاصل کیا تو آپ نے فرمایا :۔ میَں نے آواز تو رات کو ہی شناخت کرلی تھی مگر طبیعت کو تکلیف تھی اس لیے بُلا نہ سکا۔