ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ میَں خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں اب میرے دعویٰ کو پرکھ کر دیکھ لو کہ آیا یہ ان تین معیاروں کی روسء سّچا ثابت ہو تا ہے یا نہیں ۔
سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیئے کہ کیا یہ وقت کسی مدعی کی ضرورت کا داعی ہے یا نہیں ؟پس ضرورت تو ایسی صاف ہے کہ اس پر زیادہ کہنے کی ہمیں ضرورت ہی نہیں۔اسلام پر اس صدی میں وہ وہ حملے کئے گئے ہیں جن کے سننے اور بیان کرنے سے ایک مسلمان کے دل پر لرزہ پڑتا ہے۔
سب سے بڑا فتنہ اس زمانہ میں نصاریٰ کا فتنہ ہے جنہوں نے اسلام کے استیصال کے واسطے کوئی دقیقہ فرو گذاشت ہی نہیں کیا اُن کی کتابوں اور رسالوں اور اخباروں اور اشتہاروں کو جو اسلام کے خلاف ہیں اگر جمع کیا جائوے تو ایک بڑا پہاڑ بن جاتا ہے اور پھر تیس لاکھ کے قریب مُرتد ہو چکے ہیں۔اس کے ساتھ آریوں،برہموئوں اور دوسرے آزاد خیال لوگوں کو ملالیا جائے تو پھر دشمنانِ اسلام کے حملوں کا وزن اَور بھی بڑھ جاتا ہے۔اب ایسی صورت میں کہ اسلام کو پائوں کے نیچے کچلا جارہا ہے۔کیا ضروت نہ تھی کہ خدا تعالیٰ اپنے سچے دین کی حماعت کرتا۔اور اپنے وعدہ کے موافق اس کی حفاظت فرماتا اور اگر عام حالت کو دیکھا جائے تو وہ ایسی خراب ہے کہ اس کے بیان کرنے سے بھی شرم آتی ہے۔فسق وفجور کا وہ حال ہے کہ علانیہ بازاری عورتیں بدکاری کرتی ہیں۔معاملات کی حالت بگڑی ہوئی ہے۔تقویٰ اور طہارت اُٹھ گیا ہے۔وہ لوگ جو اسلام کے حامی اور محافظِ شرعِ متین کہلاتے تھے۔اُن کی خانہ جنگی اور اپنی عملی حالت کی کمزوری نے اَور بھی ستم برپاکر رکھا ہے عوام جب ان کی حالت بد دیکھتے ہیں تو وہ حدود اللہ کے توڑنے میں دلیری سے کام لیتے ہیں۔غرض اندرونی اور بیرونی حالت بہت ہی خطرناک ہو رہی ہے۔
پھر دیکھنا ہے کہ آیا قرآنِ شریف اوراحادیثِ صحیحہ میں کسی آنے والے کا وعدہ دیا گیا ہے سو قرآنِ شریف نے بڑی وضاحت کے ساتھ دو سلسلوں کا ذکر کیا ہے ایک وہ سلسلہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شروع ہو اور حضرت مسیح علیہ السلام پر آکر ختم ہوا اور دوسرا سلسلہ جو اسی سلسلہ کے مقابل پر واقع ہوا ہے وہ آنحضرت ﷺ کا سلسلہ ہے چنانچہ تورات میں بھی آپ کو مثیلِ موسیٰ کہا گیا اور قرآن شریف میں بھی آپ کو مثیلِ موسیٰ ٹھہرا یا گیا جیسے فرمایاہے۔
انا ارسلنا الیکم رسولا شاھد اعلیکم کما ارسلنا الی فرعون رسو لا ۔(المذمل:۱۶)
پھر جس طرح پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سلسلہ حضرت مسیح علیہ السلام پرآکر ختم ہو گیا۔اسی سلسلہ کی مماثلت کے لیے ضروری تھا کہ اسی وقت اور اسی زمانہ پر جب حضرت مسیحؑ حضرت موسیٰؑ کے بعد آئے تھے مسیح محمدی بھی آتا اور یہ بالکل ظاہر اور صاف بات ہے کہ مسیح موسو ی