کب روارکھ سکتی ہے کہ یہ گالیان اسی طرح پر دی جائیں اوراسلام کی دستگیری اور نصرت نہ ہو حالانکہ اس نے آپ وعدہ فرمایا تھا
انا نحن نذ لنا الذکرو انا لہ لحافظون(الحجر:۱۰)
یہ کبھی نہیں ہو سکتا تھا کہ زمانہ کی یہ حالت ہو اور اللہ تعالیٰ باوجود اس وعدہ کے پھر خاموش رہے
بے باک اور شوخ عیسائی قرآن شریف کی یہانتک بے ادبی کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ استنجے کرتے ہیں اور اسول اللہ ﷺ پر قام قسم کے افتراء باندھتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور وہ لوگ ان میں زیادہ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے گھروں میں جنم لیا اور مسلمانوں کے گھروں میں پرورش پائی اور پھر مُرتد ہو کر اسلام کی پاک تعلیم پر ٹھٹھا کرنا اپنا شیوہ بنا لیا ہے ۔یہ حالت بیرونی طور پر اسلام کی ہو رہی ہے اور ہر طرف سے اس پر تیر اندازی ہو رہی ہے تا کیا یہ وقت خداتعالیٰ کی غیرت کو جو وہ اپنے پاک رسول ﷺ کے لیے رکھتا ہے جوش میں لانے والا نہ تھا ۔اس کی غیرت نے جوش مارا اور مجھے مامور کیا ۔اس وعدہ کے موافق جو اس نے
انا نحن نذ لنا الذکرو انا لہ لحافظون(الحجر:۱۰)
میں کیا تھا ۱؎
حضرت اقدس علیہ السلام نے اس قدر تقریر فرمائی تھی کہ عصر کی اذان ہو گئی اور نواب صاحب اور مشیر اعلیٰ صاحب خاموش ہو گئے۔ حضرت نے فر مایا کہ :۔اذان میں باتیں کر نا منع نہیں ہیں آپ اگر کچھ اور بات پو چھنا چاہیتے ہیں تو پوچھ لیں کیونکہ بعض باتیں انسان کے دل میں ہو تی ہیں اور وہ کسی وجہ سے ان کو نہیں پوچھتا اور پھر رفتہ رفتہ وہ برا نتیجہ پیدا کرتی ہیں ۔جو شکوک پیدا ہوں ان کو فوراً باہر نکالنا چاہیے ۔یہ بُری غذاکی طرح ہو تی ہیں ۔اگر نکالی نہ جائیں تو سوء ہضمی ہو جا تی ہے
جب یہ فر ما چکے تو سلسلہ حسب ذیل طریق پر شروع ہوا۔
مشیر اعلیٰ :۔ میرے نز دیک اہم امور یہی تھے جو ان الفاظ کے متعلق میں نے پوچھے ہیں ۔
نواب صاحب:۔حضرت کے اشتہار میں بھی یہی ہے اور زبانی بھی وہی ارشاد فرمایا ہے۔
حضرت اقدس :۔دراصل انسان کو بعض اوقات بڑے ہی مشکلات پیدا ہو تے ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے شاملِ حال نہ ہو تو وہ ان مشکلات میں پڑ کر ہدایت اور حقیقت کی راہ سے دورجا پڑتا ہے ، یہودیوں کو بھی اسی قسم کے مشکلات پیش آئے ۔اُنہوں نے تورات میں بھی پڑھا تھا کہ خاتم الانبیاء ان ہی میں