رکھوں گا اور اُن میں ترقی اور عروج دوں گا۔ مَیں اس بات کا کیونکر انکار کرسکتا ہوں۔مَیں بخوبی جانتا ہوں کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ ملوک،ملکدار تاجر اور ہر قسم کے معزز لوگ یہی ہوں گے۔لوگوں کے نزدیک یہ انہونی بات ہے مگر مَیں یقیناً جانتاہوں کہ یہی ہوگا وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے بلکہ مجھے وہ بادشاہ دکھائے بھی گئے ہیں جو گھوڑوں پر سوار تھے۔ یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ جو اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے اب اس وقت کوئی اس کو باور نہیں کرسکتا ۔لیکن مَیں جانتا ہوں کہ ایسا ہوگا۔جب آنحضرت ﷺ نے کہا تھا کہ دین ودنیا ان میں ہی آجائیں گے اس وقت کسی کو خیال ہوسکتا تھا کیونکہ اتنے آدمی صرف آپ کے ساتھ تھے جو ایک چھوٹے حجرہ میں آجاتے تھے اور لوگ ایسی باتوں کو سنکر اور گھکر استہزاء کرتے تھے کہ گھر سے نکلنے کا موقعہ نہیں ملتا اور یہ دعوے ہیں۔آخر سب کو معلوم ہوگیا کہ جو فرمایا تھا وہ سچ تھا۔ مامور اپنی ابتدائی حالت میں ہلال کی طرح ہو تا ہے ۔ ہر ایک شخص اس کو نہیں دیکھ سکتا لیکن جو تیز نظر ہو تے ہیں وہ دیکھ لیتے ہیں اسی طرح پر سعیدالفطرت مومن مامور کو اس کی ابتدائی حالت میں جبکہ وہ ابھی مخفی رہتا ہے شناخت کر لیتے ہیں ۔آنحضرت ﷺ نے اپنے ماننے والوں کا نام سابقین رکھا ہیلیکن جب بہت سے مسلمان فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے تو ان کا نام صرف ناس رکھا گیا جیسے فرمایا اذاجا نصراللہ ولفتح ورایت الناس ید خلون فی دین اللہ افواجا (النصر :۲،۳) حقیقت یہی ہے کہ جب حق کھل جاتا ہے پھر انکار کی گنجائش نہیں رہتی جیسے جب دن چڑھا ہو تو پھر بُجز شّپر کے کون انکار کرے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جن پر حق کھل جاتا ہے مگر دنیا کے تعلقات اور مجبوریوں کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں اور اس حق سے محروم رہتے ہیں ۔پس ہمیشہ خد اتعالیٰ سے دُعا مانگنی چاہیئے کہ وہ ان ظلموں سے بچاتا رہے اور قبول ِحق کے لیے کو ئی روک اس کے واسطے نہ ہو نواب صاحب:۔آپ میرے لیے ایمان کی دعا کریں ۔دنیا سے تو ایک دن مَر ہی جانا ہے ۔ حضرت اقدس :۔اچھا میَں تو دعا کروں گا مگر آپ کو بھی ان آداب اور شرائط کا لحاظ رکھناچاہیئے جو دُعا کے واسطے ضروری ہیں ۔میرے دعا کرنے سے کیا ہو گا جب آپ توجہ نہ کریں ۔بیمار کو چاہیئے کہ طبیب کی ہدایتوں اور پرہیز پر بھی تو عمل کرے ۔پس دعا کروانے کے واسطے ضروری ہے کہ آدمی اپنی اصلاح ی کرے۔ مشیر اعلیٰ:۔کیا جناب کو یہ اطلاع دی گئی ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہو گی۔ حضرت اقدس :۔ہاں عمر کے متعلق مجھے الہاماً یہ بتایا گیا تھا کہ وہ اسی کے قریب ہو گی۔اور حال میں ایک رئویا کے ذریعہ