اتباع کرو۔اس اتباع کا یہ نتیجہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ تم سے پیار کر ے گا ۔اس سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کا طریق یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سچی اتباع کی جاوے پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیے کہ انبیاء علیہم السلام اور ایسا ہی اَور جو خدا تعالیٰ کے راستبازاور صادق بندے ہو تے ہیں وہ دنیا میں ایک نمونہ ہو کر آتے ہیں جو شخص اس نمونہ کے موافق چلنے کی کو شش نہیں کرتا لیکن ان کو سجدہ کر نے اور حاجت روا ماننے کو تیار ہو جاتا ہے وہ کبھی خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر نہیں ہے بلکہ وہ دیکھ لے گا کہ مرنے کے بعد وہ امام اس سے بیزار ہو گا ایسا ہی جو لوگ حضرت علیؓ یا حضرت امام حسین ؓ کے درجہ کو بہت بڑھاتے ہیں گو یا ان کی پرستش کرتے ہیں وہ امام حسین کے متنعین میں نہیں ہیں اور اس سے امام حسین ؓ خوش ہو سکتے ہیں انبیاء علیہم السلام ہمیشہ پیروی کے لیے نمونہ ہو کرآتے ہیں اور سچ یہ ہے کہ بدُوں پیروی کچھ بھی نہیں۔ مَیں ایک دم میں کیا سناؤں و خیالات سالہاسال کے دل میں بیٹھے ہو ئے ہو تے ہیں وہ دفعتہً دور نہیں ہو سکتے ۔ہاں اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے تو وہ قادر ہے کہ فی الفور تبدیلی کردے خدا تعالیٰ کی تو فیق سے پرانے غلط خیالات کو چھوڑنا بہت ہی سہل ہو جاتا ہے ۔ دلائلِ صداقت مَیں سچ کہتا ہوں کہ میرا دعویٰ جھوٹا نہیں ہے خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اور اس کی تائید میرے اگر مَیں اس کی طرف سے مامور نہ ہوا ہوتا تو وہ مجھے ہلاک کر دیتا اور میری ہلاکت ہی میرے کذب کی دلیل ٹھہر جاتی لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ میری تھوڑی مخالفت نہیں ہو ئی ہر طرف سے ہر مذہب والے نے میری مخالفت میں حصہ لیا اور بہت بڑا حصہ لیا ہر قسم کی مشکلا ت اور روکیں میری راہ میں ڈالی جاتی ہیں اور ڈالی گئی ہیں خدا تعالیٰ نے مجھے ان مشکلات سے صاف نکالا ہے اور ان روکوں کو دور کر کے وہ ایک جہان کو میری طرف لا رہا ہے اسی ودوہ کے موافق جو براہین احمدیہ میں کیا گیا تھا اس پر بھی مَیں کہتا ہوں کہ آپ دیکھیں ر ان مشکلات کے ہو تے ہو ئے بھی مَیں کا میاب ہو گیا تو میری سچائی میں میا شبہ باقی رو سکتا ہے ۔ یہ بھی یادرکھیں کہ یہ مشکلات اور روکیں صر ف میری ہی راہ میں نہیں ڈالی گئیں بلکہ شروع سے سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ جب کو ئی راستبازاور خدا تعالیٰ کا مامور ومرسل دنیا میں آتا ہے تو اس کی مخالفت کی جاتی ہے اس کی ہنسی کی جاتی ہے اسے قسم قسم کے دیکھ دیئے جاتے ہیں مگر آخر وہ غالب آتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام روکوں کو خود اٹھا دیتا ہے آنحضرت ﷺ کو بھی قسم کے مشکلات پیش آئے ابنؔجریز نے ایک نہایت ہی درو ناک واقعہ لکھا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے نبوت