راہ کو چھوڑ کر مَیں کس کی بات سُن سکوں۔اس کے مقابل میں جلتی ہوئی آگ میں کود پڑنا میرے لیے آسان ہے مگر اس کو چھوڑنا مشکل۔
دیکھو وہ لوگ جو ہمارے ساتھ ہیں ان کی رُوحیں ان برکات کومحسوس کرتی ہیں جو اس سلسلہ میں داخل ہونے سے اُن کو ملی ہیں مگر وہ لوگ جو امام حسینؓ کی پُوجا کرتے ہیں۔اور اُن کے چال چلن کو اختیار نہیں کرتے اور اُن کا اتباع نہیں کرتے وہ یاد رکھیں کہ قیامت کو امام حسینؓ سے الگ بٹھائے جائیں گے۔اور اُن سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔
نواب صاحب:۔(شیعہ ہیں)ہم تو حجرت امام حسینؓ کو سجدہ نہیں کرتے البتہ نواسہ رسول سمجھ کر مانتے ہیں۔
حضرت اقدس:۔حضرت امام حسینؓ کے نواسی رسول(ﷺ) یا شہید ہونے مَیں تو کوئی کلام نہیں ہے اور اسی حد تک ان کو مننا کسی خرابی کا باعث نہیں ہوا۔بلکہ ان کی شان میں بہت بڑا غلو کیا گیا ہے۔میرے ایک اُستاد بھی شیعہ تھے جو آپکے ہاں بھی جایا کرتے تھے۔مجھے بہت سا موقعہ ملا کہ مَیں اس غلو کا اندازہ کرون جو وہ امام حسینؓ کی نسبت کرتے ہیں۔وہ اتنا ہی ہرگز نہیں مانتے کہ وہ صرف رسول اللہﷺ کے نواسے تھے یا شہید ہوئے بلکہ وہ حاجت روا اور مشکل کُشا مانتے ہیں۔لیکن آپ یا د رکھیں کہ جب تک وہ طریق اختیار نہ کیا جوے جو آنحضرتﷺ کا تھا اور جس پر حضرت علیؓ اور حضرت امام حسینؓ نے قدم مارا تھا۔کچھ بھی نہیں ملِ سکتا۔یہ تعزئیے بنانا اور نوحہ خوانی کرنا کوئی نجات کاذریعہ اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق قائم کرنے کا طریقہ نہیں ہوسکتا۔خوا کوئی ساری عمر ٹکریں مارتارہے۔سچی پیروی الگ چیز ہے اور محض مبالغہ ایک الگ امر ہے۔جب تک انسان انبیاء علیہم السلام اور صلحاء کے رنگ میں رنگین نہیں ہوجاتا اُن کے ساتھ محبت اور ارادت کا دعویٰ محض ایک خیالی امر ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔
؎ از عمل ثابت کن آں نورے کہ درایمان تُست
دِل چور دادی یوسفے را راہ کنعاں راگزیں
انبیاء ورسل علیہم السلام کے آنے کی غرض
انبیاء علیہم السلام کے آنے کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ اُن کے نمونہ کو اختیار کریں اور اسی رنگ میں رنگین ہو کر اُن کے ساتھ سچی محبت کا اقتضایہی ہوتا ہے کہ ان کے نقشِ قدم پر چلیں اور اگر یہ بات نہیں تو سارے دعوے ہیچ ہیں۔انبیاء علیہم السلام کی ایسی ہی مثال ہے جیسے گورنمنٹ مختلف قسم کی صنعتیں وغیرہ بھیجتی ہے اور لوگو ں کو دکھاتی ہے۔اس سے اس کی یہ غرض تو نہیں ہوتی کہ لوگ ان صنعتوں کو لے کراُن کی پُوجا کریں بلکہ وہ تو یہ چاہتی ہے کہ یہاں کے لوگ بھی ان نمونوں کو دیکھ کر اُن