کی کتاب پیش کرتی ہے۔وہ دکھانا پڑتا ہے تاکہ ایک کفرِعظیم کو شکست ہو۔
مشیرِ اعلیٰ:۔ان کے مقابلہ میں اگر ان کی تردید کی جاوے۔یہ تو اچھی بات ہے مگر ایک اُصول صحیح کو تو ان کی خاطر نہ طھوڑنا چاہیئے۔
حضرت اقدس:۔اصولِ صحیح وہ ہوسکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ قائم کرے۔ہم اُن اُصولوں پر چلتے ہیں جن پر ہم کو اللہ تعالیٰ چلاتا ہے۔اگر کوئی اس وقت ان باتوں کو استہزاء کی نظر سے دیکھتا ہے اور یقین نہیں لاتا تو مرنے کے بعد اس کی حقیقت کُھل جائیگی اور خود دیکھ لیگا کہ حق پر کون ہے۔
میرے اس دعویٰ پر کہ مَیں امام حسینؓ سے افضل ہوں شور مچایا جاتا ہے لیکن اگر پوچھا جاوے کہ آنیوالا مسیح حسینؑ سے افضل ہے یا نہیں ؟تو اس کا کیا جواب ہے۔
مشیرِ اعلیٰ:۔ پھر آپ کے نزدیک کیا ہے؟
حضرت اقدس:۔خداتعالیٰ نے تو مجھے یہی بتایا ہے کہ مَیں افضل ہوں اور آنحضرت ﷺ چونکہ موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں۔اسی طرح آنے والا محمدی مسیح موسوی مسیح سے افضل ہے۔اس وقت آپ انکار کریں تو کریں لیکن مرنے کے بعد تو سب کچھ ظاہر ہو جائے گا اور پتہ لگ جائے گا کہ کون افضل اور حق پر ہے۔مَیں اگراپنی طرف سے شیخی جتلاتا ہوں تو مجھ سے بٹھ کر کوئی جھوٹا نہیں لیکن اگر کائی میرے صدق کے نشانات دیکھ کر بھی جھٹلاتا ہے تو پھر اُس کا معاملہ خدا تعالیٰ سے ہے۔وہ میری تکذیب نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ اوراس کی آیات کی تکذیب کرتا ہے۔
آپ جو کچھ کہتے ہیں بطور مقّلدِ کے کہتے ہیں۔ذاتی بصیرت آپ کو نہیں ہے لیکن مَیں جو کچھ کہتا ہوں بطورِ محقق کے کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے بصیرت پاکر کہتا ہوں۔مَیں خدا تعالیٰ کے مکالمات سُنتا ہوں۔ہر روز اس کے مخاطبات ہوتے ہیں۔پھر میں ایک نابینا مقّلدِ کی پیروی کس طرح کروں۔ہاں اگر کوئی امام حسینؑ کو مجھ سے افضل یقین کرتا ہے اور اس کا کوئی الگ خدا ہے تو پھر مَیں دیکھ لوں گا کہ وہ میرے مقابل اس افضلیت کے کون سے نشان اپنی ذات سے دکھاسکتا ہے۔اگر کوئی نشان نہیں دکھا سکتا اور مَیں یقین سے کہتا ہوں کہ کوئی بھی نہیں دکھا سکتا تو پھر میرے لیے جو تحقیق کی راہ کُھلی ہے اس کا انکار نا مناسب ہے۔
یہ نری کہنے کہ باتیں ہیں۔میری زندگی کا کون ذمہ دار ہوسکتا ہ مَیں براہ راست خدا تعالیٰ سے منتا ہوں۔خواہ مجھ دوزخ میں ڈال دیا جائے یا ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے مَیں اس کی بالکل پروا نہیں کرتا۔میں کھبی اس امرِ حق کو نہیں چھوڑ سکتا۔مَیں نے ان نشانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پہچانا ہے جن نشانوں