ہے کہ ایک بھی درست نہیں ہوا بلکہ سارے مُرتد ہوگئے۔
اس عقیدہ کی شناخت کو خوب غور سے سوچو کہ اس کا اثر اسلام پر کیاپڑتا ہے۔آنحضرتﷺ کے تویہ یُوں مخالف ہوئے اور قرآنِ شریف کے بر خلاف اس طرح پر ہیں کہ کہتے ہیں کہ اصل قرآنِشریف نہیں رہا۔جو اَب موجود ہے وہ محّرف مبّدل ہو گیا ہے اور اصل قرآن مہدی کسی غار میں لے کر چھپا ہوا ہے اب تک نہیں نکلتا۔دُنیا گمراہ ہو رہی ہے اور اسلام پر حملے ہو رہے ہیں۔مخالف ہنسی کرتے ہیں اور خطرناک توہین کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے ہاتھ میں بقول اُن کے قرآنِ شریف بھی نہیں ہے اور مہدی ہے کہ وہ غار سے ہی نہیں نکلتا۔کوئی سمجھدار آدمی خدا تعالیٰ سے ڈر کر ہمیں بتائے کہ کیا یہ بھی دین ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اعلیٰ درجہ کی رُوحانی قوت اور تاثیر کے ساتھ بھیجا تھا جس کا اثر ہر زمانہ میں پایا جاتا ہے ۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعیننے جو خدمت اسلام کی کی ہے اور جس طرح پر انہوں نے اپنے خون سے اس باغ کی آبپاشی کی ہے اس کی نظیر دنیا کی کسی تاریخ میں نہیں ملے گی اُن کی خدمات اسلام کے لیے نہایت ہی قابلِ قدر اور اعلیٰ درجہ کی ہیں۔اور جب خدا تعالیٰ کے دین میںسستی واقع ہونے لگتی ہے اور کمی فہم یا مُرورِزمانہ کی قوجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہو کر یہ پاک دین بگڑ نے لگتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ ایک شخص کو مامور کرکے بھیجتا ہے جو اُس کے بُلائے بولتا ہے اور رُوح القدس کی تائید اُس کے ساتھ ہوتی ہے وہ ان غلط فہمیوں اور خرابیوں کو دُور کرتا ہے جو علمی طور پر دین میں پیدا ہوجاتی ہیں اور اپنے عملی نمونہ اور قدسی قوت کے ساتھ ایک نیا ایمان دُنیا کو خدا تعالیٰ کی ہستی پر بخشتا ہے۔ ۱؎
لیکن جب انسان خدا تعالیٰ سے غافل ہوجاتا ہے اور شعائر اللہ کی پرواہ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بھی اس سے بے پرواہ ہو جاتا ہے اور اُس شخص اور ایسی قوم کو تباہ کر دیتا ہے چنانچہ چغتائی سلطنت نے جب دین سے غافل ہو کر بہائم کی سی سیرت اختیار کرلی تو پھر اس کا نتیجہ کیا ہوا؟وہ سلطنت جو صدیوں سے چلی آتی تھی اس کا کچھ بھی باقی نہ رہا اور ایک شاعر پر اس کا خاتمہ ہوگیا۔
پس انسان کو ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیئے۔کھلی اور چھپی ہوئی بد کاریاں آخر انسان پر وہ گھڑی لے آتی ہیں جس کا اُسے آسایش کے ایام میں وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔اس لیے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کا خوف ہر وقت دل پر رہے اور اس کی عظمت وجبروت سے ڈرتا رہے اور اعمالِ صالحہ کی کوشش کرتا رہے اور پھر دُعا کے ساتھ اس کی توفیق مانگے۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے