آنحضرت ؐکے صحابہؓ کا مقام جس طرح پر یہ قاعدہ کہ وہی طبیب حاذق اور دانا سمجھا جاتا ہے جو سب سے زیادہ مریض اچھے کرے اسی طرح انبیاء علیہ السلام سے وہی ا فضل ہو گا جو رُوحانی انقلاب سب سے بڑھ کر کرنے والا ہو اور جس کی تاثیرات کا سلسہ ابدی ہو اب اس محک پر رسُوک اللہ ﷺ کی کامیابی اور مسیح کی کامیابی کو دیکھو۔ایک موقعہ مسیح پر مشکلات کا آتا ہے وہ قوم اور جماعت جو اس نے تیار کی تھی وہ اپنا کیا نمونہ دکھتی ہے ۔انجیل سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ وہ بورہ خاص شاگرد جو حواری کہلاتے تھے اس کو چھوڑ بیٹھے اور جو اُن میں بھی نخاص تھے ایک تیس روپے کے لا لچ سے اس کو گرفتا کرانے والا ٹھہرا۔اور دوسرا جس کو بہشت کی کنجیاں دی گئی تھیں وہ سامنے لعنت بھیجتا تھا ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام قوم کو لے کر نکلتے ہیں مگر وہ اس قوم کو کجروکہتے ہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں بات بات پر اعتراض کرنے والے اور انکار کرنے والی قوم تھی یہاں تک کہ کہدیا اذ ھب انت و ربک فقا تلا انا ھھنا قعدون (المائدۃ:۹) مگر اس کے بالمقابل آنحضرت ﷺ کی جماعت کو دیکھو کہ انہوں نے بکریوں کی طرح اپنا خون بہا دیا اور آنحضرت ﷺ کی اطاعت میں ایسے گم ہوگئے کہ وہ اس کے لیے ہر ایک تکلیف اور مصیبت اُٹھانے کوہر وقت تیار تھے۔انہوں نے یہانتک ترقی کی کہ رضی اللہ عنھم ورضواعنہ۔(البینۃ:۹) کا سرٹیفکیٹ ان کو دیا گیا۔ پس صحابہؓ کی وہ پاک جماعت تھی جو اپنے نبی ﷺ سے کبھی الگ نہیں ہوئے اور وہ آپ کی راہ میں جان دینے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے بلکہ دریغ نہیں کیا ان کی نسبت آیا ہے منھم من قضی نحبہ و منھم من ینتظر(الا حزاب:۲۴) یعنی بعض اپنا حق ادا کر چکے اور بعض منتظر ہیں کہ ہم بھی اس راہ میں مارے جاویں۔اس سے آنحضرت ﷺ کی سیرت کی قدر وعظمت معلوم ہوتی ہے۔مگر یہاں یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آنحضرت ﷺ کی سیرت کے روشن ثبوت ہیں۔اب کوئی شخص ان ثبوتوں کو ضائع کرتا ہے۔تو وہ گویا آنحضرت ﷺ کی نبوت کو ضایع کرنا چاہتا ہے بس وہی آنحضرت ﷺ کی سچی قدر کر سکتا ہے جوصحابہ کرامؓ کی قدر کرتا ہے جو صحابہ کرامؓ کی قدر نہیں کرتا۔وہ ہرگز ہرگز آنحضرت ﷺ کی قدرنہیں کرتا وہ اس دعویٰ میں جھوٹا ہے۔اگر کہے کہ مَیں آنحضرت ﷺ سے محبت رکھتا ہوں کیونکہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت ﷺ سے محبت ہو اور پھر صحابہؓ سے دشمنی ۔ جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوبُراسمجھتے ہیں اور ان سے دشمنی کرتے ہیں وہ فی الحقیقت رسول اللہ ﷺ سے دشمنی کرتے ہیں کیونکہ وہ آپ کی نبوت کے روشن دلائل کو توڑتے ہیں۔جب ایک ٹا نگ ٹوٹ جاوے تو باقی کیا رہ جاتا ہے۔اگر آپ اپنے سارے زمانہ رسالت میں دو چار آدمی معاذ اللہ ایسے تیار نہیں