کے پجاریوں ہی نے ان کو توڑا۔ اور ان کی مذمت کی۔ یہ حیرت انگیز کامیابی یہ عظیم الشان انقلاب کسی نبی کی زندگی میں نظر نہیں آتا ۔جو ہمارے پیغمبر ﷺ نے کرکے دکھا یا ۔ یہ کامیابی آپ کی اعلیٰ درجہ کی قوتِ قدسی اور اللہ تعالیٰ سے شدید تعلقات کا نتیجہ تھا ۔
ایک وقت وہ تھا کہ آپ مکّہ کی گلیوں میں تنہا پھرا کرتے تھے اور کوئی آپ کی بات نہ سنتا تھا ۔پھر ایک وقت وہ تھا جب آپ کے انقطاع کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یاد دلایا
اذا جاء نصراللہ والفتح ورایت الناس ید خلون فی دین اللہ افواجا۔(النصر:۲،۳)
آپ نے اپنی آنکھو ں سے دیکھ لیا کہ فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہو تے ہیں ۔جب یہ آیت اُتری تو آپ نے فرمایا کہ اس سے وفات کی بُو آتی ہے کیونکہ وہ کام جو میَں چاہتا تھا وہ ہو گیا اور اصل قاعدہ یہی ہے کہ انبیاء علیہ السلام اسی وقت تک دنیا میں رہتے ہیں جب تک وہ کام جس کے لیے وہ بھجیے جاتے ہیں نہ ہو لے ۔جب وہ کام ہو چکتا ہے تو اُن کی رحلت کا زمانہ آجا تا ہے جیسے بندوبست والوں کا کام ختم ہو جاتا ہے تو وہ اس ضلع سے رخصت ہو جاتے ہیں ۔اسی طرح پر جب آیت شریفہ
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (المائدہ:۴)
نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جس پر بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونے لگے تھے اس آیت کو سن کر رونے لگے ۔صحابہؓ میںسے ایک نے کہا کہ اے بڈھے ـ!تجھے کس چیز نے رُلا یا ۔آج تو مومنوں کے لیے بڑی خوشی کا دن ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تو نہیں جانتا اس آیت سے آنحضرت ﷺ کی وفات کی بُو آتی ہے ۱؎
دنیا میں اسی طرح پر قاعدہ ہے کہ جب مثلاً محکمہ نبدوبست ایک جگہ کام کرتا ہے اور وہ کام ختم ہو جا تا ہے تو وہ عملہ وہاں نہیں رہتا ہے۔اسی طرح انبیاء ورُسُل علیہم السلام دنیا میں آتے ہیں ۔اُن کے آنے کی ایک غرض ہو تی ہے اور جب وہ پوری ہو جاتی ہے پھر وہ رخصت ہو جاتے ہیں ،لیکن آنحضرت ﷺ کو جب دیکھتا ہوں تو آپ سے بڑھ کر کوئی خوش قسمت اور قابلِ فخر ثابت نہیں ہو تا ۔کیونکہ جو کامیابی آپ کو حاصل ہوئی وہ کسی اور کو نہیں ملی۔
آپ ایسے زمانہ میںآئے کہ دنیاکی حا لت مسخ ہو چکی تھی اور وہ مجذوم کی طرح بگڑی ہوئی تھی اور آپ اس وقت رخصت ہوئے جب آپ نے لاکھوں انسانوں کو ایک خدا کے حضور جھکا دیا اور توحٰد پر قایم کردیا۔آپ کی قوتِقدسی کی تاثیر کا مقابلہ کسی نبی کی قوتِ قدسی نہیں کرسکتی ۔حضرت عیسی علیہ السلام ایسی حالت میں منقطع ہوئے کہ وہ حواری جو بڑی محنت سے تیار کئے تھے جن کو دن رات ان کی صحبت میں رہنے کا موقعہ ملا تھا وہ بھی پورے طور پر مخلص اور وفادار ثابت نہ ہوئے اور خود حضرت مسیحؑ کو اُن کے اخلاص پر شک ہی رہا