اپنے لیے خدا تعالیٰ سے دُعا کرتے ہوں گے کہ اس مشکل سے نجات مل جاوے لیکن وہ دُعا اس وقت منشاء الہیٰ کے خلاف تھی اور قضاء وقدر اس کے مخالف تھے اس لیے وہ ایسی جگہ شہید ہو گئے ۔اگر ان کے قبضہ واختیار میں کوئی بات ہو تی تو انہوں نے کو نسا دقیقہ اپنے بچائو کے لیے اُٹھا رکھا تھا مگر کچھ بھی کار گر نہ ہو ا۔اس سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ قضاء وقدر کا سارا معاملہ اور تصرِف تام اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے جو اس قدر ذخیرہ قدرت کا رکھتا ہے اور حیّ وقیوم ہے اس کو چھوڑ کر جو مُردوں اور عاجز بندوں کی قبروں پر جاکر اُن سے مُرادیں مانگتا ہے اس سے بڑھ کر بے نصیب کون ہو سکتا ہے ؟ انسان کے سینہ میں دو دل نہیں ہو سکتے ۔ایک ہی دل ہے وہ دو جگہ محبت نہیں کرسکتا اس لیے اگر کوئی زندوں کو چھوڑ کر مُردوں کے پاس جاتا ہے وہ حفظِ مراتب نہیں کرتا ۔اور یہ مشہور بات ہے ۔ گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی خدا تعالیٰ کو خدا تعالیٰ کی جگہ پر رکھو اور انسان کو انسان کا مرتبہ دو ۔اس سے مت بڑھائو مگر میں افسوس سے ظاہرکرتا ہوں کہ حفظِ مراتب نہیں کیا جاتا۔زندہ اور مُردہ کی تفریق ہی نہیں رہی بلکہ انسان عاجز اور خدائے قادر میں کوئی فرق اس زمانہ میں نہیں کیا جاتا ۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے ۔صدیوں سے خداتعالیٰ کا قدر نہیں پہچانا گیا اور خداتعالیٰ کی عظمت وجبروت عاجز بندوں اور بے قدر چیزوں کو دی گئی ۔ مجھے تعجب آتا ہے ان کوگوں پر جو مسلمان کہلاتے ہیں لیکن باوجود مسلمان کہلانے کے خداتعالیٰ کو چھوڑتے اور اس کی صفات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں جیساکہ میں دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم کو جو ایک عاجز انسان تھا اور اگر قرآن شریف نہ آیا ہو تا اور آنحضرت ﷺ معبوث نہ ہوئے ہوتے تو اس کی رسالت بھی ثابت نہ ہوتی بلکہ انجیل سے تو وہ اعلیٰ اخلاق کا آدمی بھی ثابت نہیں ہوتا لیکن عیسائیوں کے اثر سے متاثر ہو کر مسلمان بھی اُن کو خدائی درجہ دینے میں پیچھے نہیں رہے کیونکہ جیسا کہ وہ صاف مانتے ہیں کہ وہ اب تک حیّ وقیوم ہے اور زمانہ کا اسا پر کوئی اثر نہیں ہوا ،آسمان پر موجود ہے ۔مُردوں کو زندہ کیا کرتا تھا ۔جانوروں کو پیدا کیا کرتا تھا ۔غیب جاننے والا تھا ۔پھر اس کے خدا بنانے میں اور کیا باقی رہا۔ افسوس مسلمانوں کی عقل ماری گئی جو ایک خدا کے ماننے والے تھے وہ اب ایک مُردہ کو خدا سمجھتے ہیں ۔اور اُن خدائوں کا تو شمار نہیں جو مُردہ پرستوں اور مزار پرستوں نے بنائے ہوئے ہیں ۔ایسی حالت اور صورت مٰن خدا تعالیٰ کی غیرت نے یہ تقاضا کیا ہے کہ اُن مصنوعی خدائوں کی خدائی کو خاک مٰں ملایا جاوے ۔زندوں اور مُردوں میں ایک امتیاز قائم کرکے دُنیا کو حقیقی خدا کے سامنے سجدہ کرایا جاوے ۔اسی غرض کے لیے اس نے مجھے بھیجا ہے ۔اور اپنے نشانوں کے ساتھ بھیجا ہے۔