کرتا اور پورا متقی نہیں بنتا ۔اگر صرف دُعا کرتا ہے اور خود کوئی تد بیر نہیں کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا امتحان کرتا ہے ۔یہ سخت گناہ ہے ۔اللہ تعالیٰ کا امتحان نہیں کرنا چاہیئے ۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک زمینداراپنی زمین میں ترددتو نہیں کرتا اور بدُوں کا شت کے دُعا کرتا ہے کہ اس میں غلہ پیدا ہو جائے ۔وہ حقِ تدبیر کو چھوڑتا ہے اور خدا تعالیٰ کا امتحان کر تا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔اور اسی طرح پر جو صرف تدبیر کرتا ہے اور اسی پر بھروسہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے دُعا نہیں مانگتا وہ ملحد ہے ۔ تدبیر اور دُعا کا اتحاد اسلام ہے جیسے پہلا آدمی جو صرف دُعا کرتا ہے اور تدبیر نہیں کرتا وہ خطاکار ہے۔اسی طرح پر یہ دوسرا جو تدبیر ہی کو کافی سمجھتا ہے وہ ملحد ہے مگر تدبیر اور دُعا دونوباہم ملا دینا اسلام ہے۔اسی واسطے میں نے کہا ہے کہ گناہ اور غفلت سے بچنے کے لیے اس قدر تدبیر کرے جو تدبیر کا حق ہے اور اس قدر دُعا کرے جو دُعا کا حق ہے ۔اسی واسطے قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ فاتحہ میں ان دونو باتوں کو مدِنظر رکھ کر فرمایا ہے۔ ایاک نعبد وایاک نستعین (الفاتحہ:۵) اسی تدبیر کوبتاتا ہے اور مقدم اس کو کیا ہے کہ پہلے انسان رعایتِ اسباب اور تدبیر کا حق ادا کرے مگر اس کے ساتھ ہی دُعا کے پہلو کو چھوڑنہ دے بلکہ تدبیر کے ساتھ ہی اس کو مدنظر رکھے ۔مومن جب ایاک نعبد کہتا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تو معاًاس کے دل میں گزرتا ہے کہ میں کیا چیز ہو ں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں جب تک اس کا فضل اورکرم نہ ہو ۔اس لیے وہ معاً کہتا ہے ایاک نستعین مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں ۔یہ ایک نازک مسئلہ ہے جس کو بجز اسلام کے اور کسی مذہب نے نہیں سمجھا۔اسلام ہی نے اس کوسمجھاہے ۔عیسائی مذہب کا تو ایسا حال ہے کہ اس نے ایک عاجز انسان کے خون پر بھروسہ کرلیا اور انسان کو خدا بنا رکھا ہے ۔ان میں دۃعا کے لیے وہ جوش اور اضطراب ہی کب پیداہو سکتا ہے جو دُعا کے ضروری اجزاء ہیں وہ تو انشاء اللہ کہنا بھی گناہ سمجھتے ہیں لیکن مومن کی روح ایک لحظہ کے لیے بھی گوارانہیں کرتی کہ وہ کوئی بات کرے اور انشاء اللہ ساتھ نہ کہے۔پس اسلام کے لیے یہ ضروری امر ہے کہ اس میں داخل ہو نے والا اس اصل کو مضبوط پکڑلے۔تدبیر بھی کرے اور مشکلات کے لیے دُعا بھی کرے اور کروائے ۔اگر ان دونوپلڑوں میں سے کوئی ایک ہلکا ہے تو کام نہیں چلتا ہے اسلیے ہر ایک مومن کے واسطے ضروری ہے کہ اس پر عمل کرے مگر اس زمانہ میں میَں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی یہ حالت ہو رہی ہے کہ وہ تدبیریں تو کرتے ہیں مگر دُعا سے غفلت کی جاتی ہے بلکہ اسباب پراتی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ تدابیردنیاہی کو خدا بنا لیا گیا ہے اور دُعا پر ہنسی کی جاتی ہے اور اس کو ایک فضول شئے قرار دیا جاتا ہے یہ سارا اثر یورپ کی تقلید سے ہوا ہے یہ خطرناک زہر ہے جو دنیا میں پھیل رہا ہے مگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس زہر کو دور کرے چنانچہ یہ سلسلہ اس نے اسی لیے قائمکیا ہے ۔تا دنیا