۲۸؍دسمبر۱۹۰۳؁ء دلائل الخیرات اور دیگر وظائف کی نسبت امام الوقت کی رائے ایک صاحب ۱؎ آمدہ ازمروہہ نے دریافت کیا کہ دلائل الخیرات جو ایک کتاب وظیفوں کی ہے اگر اسے پڑھا جاوے تو کچھ حرج تو نہیں ؟کیو نکہ اس میں آنحضرت ﷺ پر درودشریف ہی ہے اور اس میں آنحضرتﷺ ہی کی تعریف جابجا ہے ۔فر مایا کہ:۔ انسان کو چاہئیے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے جب اس میں دعا کا مقام آوے تو دعا کرے اور خود بھی خدا تعالیٰ سے وہی چاہئیے جو اس دعا میں چاہا گیا ہے اور جہاں عذاب کا مقام آوے تواس سے پناہ مانگے اور ان بداعمالیوں سے بچے جس کے باعث وہ قوم تباہ ہو ئی بلا مددوحی کے ایک بالائی منصوبہ جو کتاب اللہ کے ساتھ ملاتا ہے وہ اس شخص کی ایک رائے ہے جو کہ کبھی باطل بھی ہوتی ہے اور ایسی رائے جس کی مخالفت احادیث میں موجود ہو وہ محدثات میں داخل ہو گی رسم اور بدعات سے پر ہیز بہتر ہے اس سے رفتہ رفتہ شریعت میں تصرف شروع ہو جاتا ہے ۔بہتر طریق یہ ہے کہ ایسے وظائف میں جو وقت اس نے صرف کرنا ہے وہی قرآن شریف کے تد بّرمیں لگا و ے۔ دل کی اگر سختی ہو تو اس کے نرم کرنے کے لیے یہی طریق ہے کہ قرآن شریف کو ہی با ر بار پڑھے جہاں جہاں دُعا ہو تی ہے وہاں مونم کا بھی دل چاہتا ہے کہ یہی رحمتِ الہی میرے بھی شاملِحال ہو ۔قرآن شریف کی مثال ایک باغ کی ہے کہ ایک مقام سے انسان کسی قسم کا پھول چنتا ہے۔پھر آگے چل کراور قسم کا چُنتا ہے ۔پس چاہیئے کہ ہر ایک مقام کے مناسبِ حال فائدہ اُٹھاوے۔اپنی طرف سے الحاق کی کیا ضرورت ہے ورنہ پھر سوال ہو گا کہ تم نے ایک نئی بات کیوں بڑھائی ؟خدا تعالیٰ کے سوا کس کی طاقت ہے کہ فلاں راہ سے اگر سورئہ یٰس پڑھو گے تو برکت ہو گی ورنہ نہیں ۔ قرآن شریف سے اعراض کی صورتیں قرآن شریف سے اعراض کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک صوری اور ایک معنوی صوری یہ کہ کبھی کلام الہیٰ کا پڑھا ہی نہ جاوے جیسے اکثر لوگ مسلمان کہلاتے ہیں مگر وہ قرآن شریف کی عبارت تک سے بالکل غافل ہیں اور معنوی کہ تلاوت تو کرتا ہے مگر اس کی برکات وانوارو رحمت الہیٰ پر ایمان نہیں ہوتا ۔پس دونواعراضوں میں سے کوئی اعراض ہو اس سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔