ہیں۔مَیں جانتا ہوں اور اس پر افسوس بھی کرتا ہوں کہ جس قسم کا نمونہ صدق ووفا کا عبد اللطیف نے دکھلایا ہے۔اس قسم کے ایمان کے لیے میرا کانشنس فتویٰ نہیں دیتا کہ ایسے لوگ میری جماعت مین بہت ہیں۔اس لیے مَیں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کو اسی قسم کا اخلاص عطا کرے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کو عزیز نہ سمجھیں۔
بزدلی کو دُور کرو
مَیں ابھی جماعت میں بزدلی دیکھتا ہوں اور جب تک یہ بزدلی دُور نہ ہو۔اور عبد اللطیف کا سایہ ایمان پیدا نہ ہو۔یقیناً یاد رکھو کہ وہ اس سلسلہ میں داخل نہیں ہے بلکہ وہ
یخا دعون اللہ (البقرہ:۱۰)
میں داخل ہے۔مومنوں میں وہ اس وقت داخل ہوں گے جب وہ اپنی نسبت یہ یقین کرلیں گے کہ ہم مُردے ہیں۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب چشمنوں کے مقابلہ پر جاتے تھے وہ ایسے معلوم ہوتے تھے کہ گویا گھوڑوں پر مُردے سوار ہیں اور وہ سمجھتے تھے کہ اب ہم کو موت ہی اس میدان سے الگ کرے گی۔
اللہ تعالیٰ لاف وگزاف کو پسند نہیں کرتا وہ دل کی اندرونی حالت کو دیکھتا ہے کہ اس ایمان کا کیا رنگ ہے۔جب ایمان قویٰ ہو تو استقامت اور استقلال پیدا ہوتا ہے اور پھر انسان اپنی جان ومال کو ہر گز اس ایمان کے مقابلہ میں عزیز نہیں رکھ سکتا اور استقامت ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا،لیکن جب استقامت ہو تی ہے تو پھر انعامات الہیہٰ کا دروازہ کُھلتا ہے دعائیں بھی قبول ہو تی ہیں مکالمات الہیہٰ کا شرف بھی دیا جاتا ہے یہانتک کہ استقامت والے سے خوارق کا صدور ہو نے لگتا ہے ظاہری حالت اگر اپنی جگہ کوئی چیز ہو تی اور اس کی قدروقیمت ہو تی تو ظاہرداری میں تو سب کے سب شریک ہیں عام مسلمان نمازوں میں ہمارے ساتھ شریک ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک شرف اور بزرگی اندرونہ سے ہے آنحضرت ﷺ نے اسی لیے فر مایاہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور بزرگی ظاہری نمازاور اعمال سے نہیں ہے بلکہ اس کی فضیلت اور بزرگی اس چیز سے ہے جو اس کے دل میں ہے حقیقت میں یہ بات بالکل صحیح ہے کہ شرف اورعلوول ہی کی بات سے مخصوص ہے مثلاًایک شخص کے دوخدمتگارہوں اور ان میں سے ایک خدمت گار تو ایسا ہو جو ہر وقت حاضررہے اور بڑی جانفشانی سے ہر ایک خدمت کے کر نے کو حاضر اور تیار ہے اور دوسرا ایسا ہے کہ کبھی کبھی آجاتا ہے ان دونوں میں سے بڑافرق ہے جو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے آقا بھی خوب جانتا ہے کہ یہ بھی ایک مزدور ہے جو دن پورے ہو جانے پر تنخواہ لینے والا ہے اور اسی کے لیے کام آتا ہے اب صاف ظاہر ہے کہ اس کے نزدیک قدروقیمت اور محبت اسی سے ہو گی جو محنت اور جانفشانی سے کام کرتا ہے نہ کہ اس مزدور سے۔