وقوع ہو تا تھا اور علا بریں ہماری تعلیم ایسی تعلیم نہیں تھی کہ کوئیاس کو پکڑسکے بلکہ یہ تعلیم توامن کے پھیلانے والی ہے پھر یہ پیشگوئی کیسے پوری ہو تی ؟ اس لیے خدا تعالیٰ نے اس نشان کو پوراکرنے کے لیے کابل کی سرزمین کو مقدر کیا ہوا تھا اور آخر ۲۴ سال کے بعد یہ پیشگوئی ٹھیک اسی طرح پوری ہوئی جس طرح پہلے فر مایا گیا تھا اس سے آگے اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے ۔ عسی ان تکر ھواشیئاوھوخیر لکم(البقرۃ:۲۱۷) یہ ایک قسم کی تسلی ہے یعنی جب ایسا مواملہ ہو تو غم نہیں کرنا چاہئیے کیو نکہ بہت سی باتیں ایسی ہو تی ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو اور وہ اچھی نہیں ہوتی اور بہت سی ایسی ہو تی ہیں جن کو ناپسند کرتے ہو اور وہ درحقیقت تمہارے لیے مفید ہو تی ہیں یہ خدا تعالیٰ کا ارشاد بالکل سچ ۲ ؎ ہے اورمَیں یقیناً جانتا ہوںکہ اب وقت آنے والا ہے کہ اس کی شہادت کی حکمت نکلنے والی ہے اور مَیں نے سنا ہے کہ اس وقت چودہ آدمی قید کئے گئے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عبداللطیف کو ناحق شہید کرایا گیا ہے اور یہ ظلم ہواہے وہ حق پر تھا اس پرامیر نے ان آدمیوں کو قید کردیا ہے اور ان کے وارثوں کو کہا ہے کہ وہ ان کو سمجھائیں کہ ایسے خیالات سے بازآجائیں مگر وہ موت کو پسند کرتے ہیں اور اس یقینی بات کو وہ چھوڑ نا نہیں چاہتے اگر عبداللطیف شہید نہ ہوا ہوتا تو یہ اثر کس طرح پیدا ہو تا اور یہ رعب کس طرح پرپڑتا ۔ یقیناً سمجھو کہ خدا تعالیٰ نے کسی بڑی چیز کا ارادہ کیا ہے اور اس کی بنیاد عبداللطیف کی شہادت سے بڑی ہے اگر مولوی عبداللطیف زندہ رہتے تودس بیس تک زندہ رہتے آخرموت آ جاتی اورموت آنی ہے اس سے اگر مولوی بچ نہیں سکتا مگر یہ موَت مَوت نہیں یہ زندگی ہے اور اس سے مفید نتیجے پیدا ہونیوالے ہیں اور یہ مبارک بات دشمن بھی اگر خبیث نہ ہو تو براہین احمدیہ کی پیشگوئی کو پڑھ کر اور اس طرح پر پوری ہو نے کو دیکھ کراس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ اگر مفتری ہے اور رات کو جھوٹاالہام بناکر سنادیتا ہے تو یہ اثر