اللہ تعالیٰ کو ئی سلسلہ قائم کرتا ہے جیسا کہ اس وقت اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے تو جو لوگ اس میں اولاد اخل ہو تے ہیں ان کو قسم قسم کی تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں ہر طرف سے گا لیاں اور دھمکیاں سننی پٹتی ہیں۔کو ئی کچھ کہتا ہے کو ئی کچھ یہا نتک کہ ان کو کہا جا تا ہے کہ ہم تم کو یہاں سے نکال دیں گے یا اگرملاوم ہے تو اس کے موقوف کارنے کے منصوبے ہو تے ہیں جس طرح ممکن ہو تا ہے تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں اور اگر ممکن ہو تو جان لینے سے دریغ نہیں کیا جاتا ایسے وقت میں جو لوگ ان دھمکیوں کی پروا کرتے ہیں اور امتحان کے ڈرسے کمزوری ظاہر کرتے ہیں یاد رکھو خدا تعالیٰ کے نزدیک ان کے ایمان کی ایک پیسہ بھی قیمت نہیںہے کیو نکہ وہ ابتلاء کے وقت خدا تعالیٰ سے نہیں انسان سے ڈرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کیعظمت وجبروت کی پروا نہیںکرتا وہ بالکل ایمان نہیں لا یا کیو نکہ دھمکی کو اس کے مقابلہ میں وقعت دیتا اور ایمان چھوڑنے کو تیار ہو جاتاہے۔ ۱؎ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صالحین میں داخل ہو نے سے محروم ہو جاتا ہے یہ خلاصہ اور مہفوم ہے اس آیت کا
دمن الناس من یقول امنا باللہ فاذا اوذی فی اللہ جعل فتنۃالناس کعذاب اللہ (العنکبوت:۱۱)
جماعت کو استقلال اور ہمت کی تلقین
ہماری جماعت کو یادرکھنا چاہئیے کہ جب تک وہ بزدلی کو نہ چھوڑے گی اور استقلال اور ہمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک راہ میں ہر مصیبت ومشکل کے اٹھانے کے لیے تیار نہ رہے گی وہ صالحین میں داخل نہیں ہو سکتی تم نے اس وقت خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ کے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے اس لیے ضروری ہے کہ تم دکھ دئیے جاؤ تم کو ستایا جاتا ہے گالیاں سننی پڑتی ہیں قوم اور برادری سے خارج کر نے کی دھمکیاں ملتی ہے جو جو تکالیف مخالفوں کے خیال میں آسکتی ہیں اس کے دینے کا وہ موقعہ ہاتھ سے نہیں دیتے لیکن اگر تم ان تکالیف اور مشکلات اور ان موذیوں کوخدا نہیں بنایا بلکہ اللہ تعالیٰ کو خدا ماناہے تو ان تکالیف کو برداشت کر نے پرآمادہ رہو اور ہر ابتلاء اور امتحان میں پورے اترنے کے لیے کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ سے اس کی تو فیق اور مدد چاہو تو مَیں تمہیں یقیناً کہتا ہوںکہ تم صالحین میں داخل ہو کر خدا تعالیٰ جیسی عظیم الشان نعمت کو پاؤگے اور ان تمام مشکلات پر فتح پاکر دار لامان میں داخل ہو جاؤگے۔
صاحبزادہ عبداللطیف کی شہادت
صاحبزادہ عبداللطیف شہیدکی شہادت کا واقعہ تمہارے لیے اسوئہ حسنہ ہے تذکرۃ الشہادتین کو