ہیں اور رُوحانی وراثت سے جب کو حصّہ ملتا ہے میری بہشت میں داخل ہو جا ۔
یہ آیت جیسا کہ ظاہر میں سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد اُسے آواز آتی ہے آخرت پر ہی موقوفں بلکہ اسی دُنیا میں اسی زندگی میں یہ آواز آتی ہے ۔اہلِ سلوک کے مراتب رکھے ہوئے ہیں اُن کے سلوک کا انتہائی نقطہ یہی مقام ہے جہاں اُن کا سلوک ختم ہو جا تا ہے اور وہ مقام یہی نفسِ مطمئنہ کا مقام ہے ۔اہلِ سلوک کی مشکلات کو اللہ تعالیٰ اُٹھا دیتاہے اور ان کو صالحین میں داخل کر تا ہے جیسے فرمایا
والذین امنو وعملو الصا لحت لند خلنھم فی الصالحین (العنکبوت:۱۰)
یعنی جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ہم اُن کو ضرور ضرور صالحین میں داخل کر دتیے ہیں ۔
اس پر بعض اعتراض کر تے ہیں کہ اعمال صالحہ کرنے والے صالحین ہو تے ہیں پھر اُن کو صالحین میں داخل کرنے سے کیا مراد ہے ؟
اصل بات یہ ہے کہ اس میں ایک لطف نقطہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ صلاحیت کی دو قسم ہو تی ہے ایک تو یہ کہ انسان تکالیف شاقہ اُٹھا کر نیکیوں کا بوجھ اُٹھا تا پے ۔نیکیاں کرتا ہے لیکن ان کے کرنے میں استکلیف اور بوجھ معلوم ہو تا ہے اور اندر نفس کے کشاکش موجود ہو تی ہے اور جب وہ نفس کی مخالفت کرتا ہے تو سخت تکلیف محساس ہو تی ہے لیکن جب وہ اعمالِ صالحہ کرتا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے جیس کہ اس آیت کا منشاء ہے اس وقت وہ تکالیف شاقہ اور محنتیں جو خود نیکیوں کے لیے برداشت کرتا ہے اُٹھ جاتی ہیں اور طبعی طور پر وہ صاحیت کا مادہ پیدا ہو جا تا ہے ۱؎ اور وہ تکالیف تکالیف نہیں رہتی ہیں اور نیکیوں کو ایک ذوق اور لذت سے کرتا ہے اور ان دونوں میں یہی فرق ہو تا ہے کہ پہلا نیکی کرتا ہے مگر تکلیف اور تکلف سے اور دوسرا ذوق اور لذت سے ۔وہ نیکی اس کی غذاہو جاتی ہے جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۲؎ اور وہ تکلف اور تکلیف جو پہلے ہو تی تھی اب ذوق وشوق اور لذت سے بدل جاتی ہے یہ وہ مقام ہو تا ہے صاکحین کا جن کے لیے فرمایا :۔
لند خلنھم فی الصالحین (العنکبوت:۱۰)
اس مقام پر پہنچ کر کوئی فتنہ اور فساد مومن کے اندر نہیں رہتا ۔نفس کی شرارتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کے جذبات پر فتح پا کر مطمئن ہو کر دارالامان میں داخل ہو جا تاہے۔